نرسنگ کالجز میں وظائف و ہاسٹل سہولیات کا خاتمہ، غریب طلباء کی رسائی محدود

لاہور: حکومت کی جانب سے سرکاری نرسنگ کالجز میں دی جانے والی مالی سہولتوں کے خاتمے کے بعد بی ایس نرسنگ میں داخلہ لینے والے ہزاروں طلبہ شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ کئی دہائیوں سے سرکاری نرسنگ کالجز غریب اور متوسط گھرانوں کے لئے ایک قابلِ استطاعت تعلیمی راستہ سمجھے جاتے تھے، جہاں نہ صرف ماہانہ وظیفہ دیا جاتا تھا بلکہ طلبہ کے لئے مفت ہاسٹل بھی فراہم کیا جاتا تھا۔

پچھلے دو برسوں میں صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔ گزشتہ سال ایوننگ کلاسز کے طلبہ کا وظیفہ ختم کیا گیا تھا، اور اس سال حکومت نے مارننگ سیشن کے طلبہ کا وظیفہ بھی بند کر دیا۔ اس کے ساتھ وہ ہاسٹل سہولت بھی ختم کر دی گئی ہے جو برسوں سے سرکاری طلبہ کو بلا معاوضہ دی جا رہی تھی۔

ذرائع کے مطابق اب سرکاری نرسنگ کالجز میں بھی فیس اسی طرح وصول کی جائے گی جیسے پرائیویٹ ادارے لیتے ہیں۔ اس فیصلے سے سرکاری اور نجی اداروں کے درمیان معاشی فرق تقریباً ختم ہو گیا ہے، جس سے کم آمدنی والے خاندانوں کے لئے یہ پروگرام پہلے سے کہیں زیادہ مہنگا اور مشکل ہو گیا ہے۔

پنجاب میں بی ایس نرسنگ کے لئے مارننگ سیشن میں 3100 اور ایوننگ میں 1400 نشستیں رکھی جاتی ہیں۔ ہر سال ہزاروں طلبہ اس امید پر داخلہ لیتے تھے کہ وہ بغیر فیس کے تعلیم حاصل کر سکیں گے اور وظیفے کی مدد سے گھر کا مالی بوجھ بھی کم ہوگا، مگر اب یہ سہولتیں مکمل طور پر ختم ہو چکی ہیں۔

تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ برسوں میں حکومت کی پالیسیوں میں نجکاری کا رجحان نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ سرکاری اسکولوں اور کالجز کی نجکاری، اساتذہ کی آسامیوں میں کمی اور اب نرسنگ کالجز کے وظائف کا خاتمہ اس سمت کی واضح نشاندہی کرتے ہیں۔

نرسنگ ایسا شعبہ ہے جہاں پاکستان پہلے ہی شدید افرادی قلت کا سامنا کر رہا ہے۔ عالمی سطح پر نرسنگ کو ایک مستحکم اور مانگ والا پیشہ سمجھا جاتا ہے، ایسے میں سرکاری سہولتوں کا خاتمہ نہ صرف موجودہ طلبہ کے لئے مشکلات پیدا کرے گا بلکہ مستقبل میں تربیت یافتہ نرسوں کی دستیابی پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔

طلبہ اور والدین نے فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیسوں اور مالی سہولتوں کے خاتمے نے بی ایس نرسنگ کو غریب گھرانوں کے لئے تقریباً ناقابلِ رسائی بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ وہ اس فیصلے پر نظر ثانی کرے تاکہ صحت کے شعبے کے لئے نئی افرادی قوت کی تربیت کا سلسلہ متاثر نہ ہو۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x