اسلام آباد (واج نیوز ڈیسک): حزبِ اختلاف کے اتحاد تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان (TTAP) نے آئین میں مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک کے آغاز کا اعلان کیا ہے، اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ آئین میں ہونے والی اس ’’انتہائی خطرناک اور تاریک‘‘ تبدیلی کے خلاف آواز بلند کریں۔
اس اعلان سے قبل وفاقی کابینہ نے ترمیمی بل کی منظوری دی، جس کے بعد بل کو سینیٹ میں پیش کر کے قانون و انصاف کی قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیا گیا۔
TTAP چھ اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل اتحاد ہے جو گزشتہ سال قائم ہوا تھا۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور مجلس وحدت المسلمین کے رہنما سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے ایک ویڈیو پیغام میں اعلان کیا کہ احتجاجی تحریک آج اتوار سے شروع ہو گی۔
علامہ ناصر عباس نے کہا کہ ملک میں جمہوری ادارے ’’مفلوج‘‘ ہو چکے ہیں اور ’’قوم کو اب اٹھ کھڑا ہونا چاہیے‘‘۔ ان کے مطابق مجوزہ ترمیم سے ’’طاقتوروں کو مزید طاقت‘‘ ملے گی اور عوامی نمائندگی کمزور ہو گی۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اس تحریک کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ پاکستان کے عوام کی مرضی ہی آخری فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میں نے پانچ مختلف مواقع پر آئین کے تحفظ کا حلف اٹھایا ہے، مگر آج پارلیمنٹ خود آئین پر حملہ آور ہے۔‘‘
ان کا کہنا تھا کہ چونکہ پارلیمنٹ عوام کی نمائندہ ہے، اس لیے حزبِ اختلاف اب براہِ راست عوام سے رجوع کر رہی ہے۔ ’’جس انداز میں یہ آئینی بنیادوں کو ہلا رہے ہیں، ہمارے پاس اب خاموش رہنے کا کوئی جواز نہیں۔‘‘
اچکزئی نے تمام سیاسی جماعتوں سے تحریک میں شمولیت کی اپیل کی اور کہا کہ احتجاجی سلسلہ اتوار کی رات سے شروع ہو گا۔ ’’ہم ہر رات ایک نیا نعرہ لے کر عوام کے شعور کو بیدار کریں گے، اور ہمارا نعرہ ہو گا — آئین کی بالادستی۔‘‘