پارلیمانی کمیٹیوں نے 27ویں آئینی ترمیم کے بیشتر نکات پر اتفاق کر لیا

اسلام آباد (واج نیوز ڈیسک): پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹیوں نے آئین میں مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کے زیادہ تر نکات پر اتفاقِ رائے کر لیا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں عدلیہ، وفاقی و صوبائی اختیارات اور عسکری قیادت کے آئینی کردار سے متعلق اہم شقوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔
ڈان اخبار نے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ کمیٹیوں نے مسودے کی تقریباً 80 فی صد شقوں کی منظوری دے دی ہے جبکہ چند حساس نکات پر مزید مشاورت جاری ہے۔
ابتدائی طور پر جن نکات پر پیش رفت ہوئی ہے ان میں درج ذیل نمایاں ہیں:

  1. وفاقی آئینی عدالت کا قیام
    ترمیم کے تحت ایک نئی وفاقی آئینی عدالت قائم کی جائے گی جو آئینی تنازعات اور وفاقی و صوبائی حدود سے متعلق مقدمات کی سماعت کرے گی۔ عدالت کے جج صدر کی منظوری سے تعینات ہوں گے، جبکہ پارلیمنٹ کو آئندہ ان کی تعداد میں اضافہ کرنے کا اختیار حاصل ہو گا۔
  2. ججوں کے تبادلے کا نظام
    ہائی کورٹس کے ججوں کے تبادلوں اور تعیناتیوں کے طریقۂ کار میں شفافیت متعارف کرانے کی تجویز منظور کر لی گئی ہے۔ اس کے تحت ججوں کی رضامندی کے بغیر بھی تبادلہ ممکن ہوگا، تاہم اس کے لیے چیف جسٹس سے مشاورت لازمی قرار دی گئی ہے۔
  3. فوجی قیادت کا ڈھانچہ
    آرٹیکل 243 سے متعلق مجوزہ ترامیم پر حتمی فیصلہ مؤخر کر دیا گیا ہے تاکہ عسکری معاملات پر اتفاقِ رائے کے ساتھ آئندہ اجلاس میں حتمی ترمیم طے کی جا سکے۔
    اجلاس میں بعض اپوزیشن اراکین نے ترمیمی بل کے چند نکات پر تحفظات کا اظہار کیا، بالخصوص اُن شقوں پر جو صوبائی خودمختاری اور عدلیہ کے اختیارات سے متعلق ہیں۔ حزبِ اختلاف کا کہنا تھا کہ ’’ایسی بنیادی ترامیم کے لیے وسیع سیاسی اتفاق ناگزیر ہے۔‘‘ وفاقی وزیرِ قانون نے وضاحت کی کہ حکومت نے اس عمل کو تمام پارلیمانی جماعتوں کی شمولیت سے آگے بڑھایا ہے تاکہ اداروں کے درمیان توازن اور شفافیت کو آئینی بنیادوں پر مضبوط کیا جا سکے۔ ان کے مطابق یہ اقدام عدلیہ، پارلیمنٹ اور انتظامیہ کے باہمی تعلق کو نئے آئینی توازن میں استوار کرنے کی ایک ’’اہم پیش رفت‘‘ ہے۔
    سیاسی مبصرین کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کا یہ مرحلہ آئندہ دنوں میں سیاسی فضا کو مزید گرم کر سکتا ہے، کیونکہ بل کی منظوری کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہے — اور یہی مرحلہ حکومت کے لیے اصل آزمائش بنے گا۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x