اسلام آباد۔۔۔۔وزارت خزانہ کی جانب سے ماہانہ معاشی آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی گئی، جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی معیشت میں بہتری کا رجحان برقرار ہے اور اہم معاشی اشاریے مثبت رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہہ ماہی کے دوران مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.71 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ شعبہ جاتی کارکردگی کے لحاظ سے زراعت میں 2.89 فیصد، صنعت میں 9.38 فیصد جبکہ خدمات کے شعبے میں 2.35 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔
ماہانہ معاشی آؤٹ لک کے مطابق ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر مارچ 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ آئی ایم ایف کے جائزے کے بعد پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر موصول ہوئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ربیع سیزن 2025-26 کے لیے گندم کی پیداوار کا ہدف 29.68 ملین ٹن مقرر کیا گیا ہے، جبکہ زرعی قرضوں کی فراہمی میں 18.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
وزارت خزانہ کے مطابق لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں جولائی تا اکتوبر 5.02 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ آٹوموبائل سیکٹر میں نمایاں بہتری دیکھی گئی اور کاروں کی پیداوار میں 65 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مہنگائی میں کمی کا رجحان برقرار رہا اور نومبر 2025 میں افراطِ زر کم ہو کر 6.1 فیصد کی سطح پر آ گئی۔ اسی طرح جولائی تا اکتوبر مجموعی مالیاتی سرپلس جی ڈی پی کا ایک فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کی محصولات میں 10.2 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ نومبر میں کرنٹ اکاؤنٹ 100 ملین ڈالر سرپلس رہا۔ درآمدات میں 11.1 فیصد اضافہ جبکہ برآمدات میں 3.2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
آئی ٹی برآمدات 18.5 فیصد اضافے سے 1.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ ترسیلاتِ زر 9.3 فیصد اضافے کے ساتھ 16.1 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔
وزارت خزانہ کے مطابق دسمبر 2025 میں پالیسی ریٹ 50 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 10.5 فیصد پر آ گیا۔ اسی دوران نومبر 2025 میں اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس 5 ہزار 46 پوائنٹس بڑھا، جبکہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن 18 ہزار 866 ارب روپے تک پہنچ گئی۔