بازاروں میں گہما گہمی ہے، دکانوں پر رش بھی نظر آتا ہے، مگر خریداروں کے چہروں پر اطمینان کے بجائے پریشانی کے آثار نمایاں ہیں۔ سبزی، پھل اور روزمرہ استعمال کی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ نے عام آدمی کو الجھن میں ڈال رکھا ہے۔ آمدن وہی ہے، مگر اخراجات کم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ سال 2025 مہنگائی کے اعتبار سے اگرچہ سرکاری اعدادوشمار میں گزشتہ برس کے مقابلے میں بہتر رہا، تاہم متوسط طبقے کے لیے یہ سال جیب پر بھاری ثابت ہوا۔
سال کا آغاز: امید کی کرن
سال 2025 کا آغاز دسمبر 2024 کی مہنگائی کی شرح 4.07 فیصد کے پس منظر میں ہوا۔ جنوری 2025 میں جب مہنگائی کم ہو کر 2.41 فیصد پر آئی تو عوامی سطح پر کچھ بہتری کی امید پیدا ہوئی۔ فروری میں یہ شرح مزید کم ہو کر 1.52 فیصد تک آ گئی، جس پر حکومت نے مہنگائی میں نمایاں کمی کے دعوؤں کو اجاگر کیا۔
تاریخی کم ترین سطح
مارچ 2025 میں مہنگائی کی شرح مزید کم ہو کر 0.69 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ 59 سال کی کم ترین سطح قرار دی گئی۔ اپریل میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی میں اضافہ صرف 0.3 فیصد رہا، جو مارچ کے مقابلے میں مزید کمی کی عکاسی کرتا ہے۔ اگرچہ جنوری سے اپریل تک مہنگائی کا دباؤ کم رہا، مگر صارفین پر اس کے اثرات مکمل طور پر زائل نہ ہو سکے۔
گرمیوں میں معمولی اضافہ
مئی 2025 میں مہنگائی کی رفتار میں معمولی کمی کے ساتھ ماہانہ شرح 0.17 فیصد رہی، تاہم سالانہ بنیادوں پر مہنگائی بڑھنے کی شرح 3.46 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ جون میں یہ شرح کم ہو کر 3.2 فیصد تک آ گئی، جسے حکومت نے معاشی بہتری کی علامت قرار دیا۔
دوبارہ بڑھتی مہنگائی
جولائی میں مہنگائی نے ایک بار پھر سر اٹھایا اور سالانہ بنیادوں پر مجموعی شرح 4.1 فیصد تک پہنچ گئی۔ اگست میں یہ شرح کم ہو کر 3 فیصد پر آ گئی، جو جون اور جولائی کے مقابلے میں کم ترین سطح تھی۔ تاہم یہ ریلیف عارضی ثابت ہوا۔
سال کا آخری حصہ: دباؤ میں اضافہ
ستمبر 2025 صارفین کے لیے خاصا ستمگر ثابت ہوا، جب مہنگائی کی مجموعی شرح ایک بار پھر بڑھ کر 5.2 فیصد تک پہنچ گئی۔ اکتوبر میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہوا اور شرح 6.24 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ نومبر میں اگرچہ معمولی کمی دیکھنے میں آئی، تاہم مہنگائی کی شرح اب بھی 6.01 فیصد کی بلند سطح پر موجود رہی۔
حکومتی دعوے، عوامی حقیقت
سال 2025 کے دوران حکومت نے مہنگائی میں کمی کے لیے سبسڈی، قیمتوں کے کنٹرول اور مختلف پالیسی اقدامات کے دعوے کیے۔ تاہم ماہرین معاشیات کے مطابق مہنگائی میں کمی کا حقیقی فائدہ عام آدمی تک اسی وقت پہنچ سکتا ہے جب آمدن میں واضح اضافہ اور اخراجات میں مؤثر کمی ہو۔
اعدادوشمار کی حد تک 2025 مہنگائی کے اعتبار سے گزشتہ برس سے بہتر دکھائی دیتا ہے، مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ عام اور متوسط طبقہ اب بھی مہنگائی کے دباؤ سے پوری طرح آزاد نہیں ہو سکا۔ بازاروں کی رونق اپنی جگہ، مگر خریداری کی سکت محدود — یہی سال 2025 کی اصل کہانی ہے۔