پاکستان میں ہڈیوں کی کمزوری میں تشویشناک اضافہ، 1 کروڑ افراد متاثر

اسلام آباد: پاکستان میں ہڈیوں کی کمزوری (آسٹیوپروسس) ایک تیزی سے پھیلتی ہوئی اور نظرانداز شدہ بیماری بنتی جا رہی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تقریباً 9.9 ملین افراد اس بیماری کا شکار ہیں، جن میں سے 7.2 ملین خواتین ہیں۔

عالمی دن کا مقصد

دنیا بھر میں 20 اکتوبر کو ہڈیوں کی صحت کا عالمی دن (World Osteoporosis Day) منایا جاتا ہے، جس کا مقصد ہڈیوں کی مضبوطی، تندرستی اور احتیاطی اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔

تحقیق میں تشویشناک حقائق

جرنل آف دی پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (JPMA) میں شائع ایک تحقیق کے مطابق، حاملہ خواتین اور بچوں میں وٹامن ڈی 3 کی کمی عام پائی جاتی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ غیر متحرک طرزِ زندگی، ناقص غذائیت اور متعدد حمل اس مسئلے کو بڑھا رہے ہیں۔ اندازوں کے مطابق، اگر یہی رجحان برقرار رہا تو 2050 تک ہڈیوں کی کمزوری سے متاثرہ افراد کی تعداد 12.01 ملین تک پہنچ سکتی ہے۔

ماہرین کی تجاویز

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ہڈیوں کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے درج ذیل اقدامات نہایت مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں:

وٹامن ڈی اور کیلشیم سے بھرپور خوراک کا استعمال

سورج کی روشنی سے مناسب استفادہ

باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور ورزش

پاکستان میں رہنما اصولوں کی کمی

واضح رہے کہ ایشیا پیسیفک کانسورشیم آن آسٹیوپروسس (APCO) نے 2019 میں اس بیماری کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے کام کا آغاز کیا تھا، تاہم رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ پاکستان میں اب بھی مقامی علاج کے رہنما خطوط (Clinical Guidelines) موجود نہیں ہیں، جس سے مریضوں کی تشخیص اور علاج مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر فوری طور پر آگاہی اور روک تھام کے اقدامات نہ کیے گئے تو آسٹیوپروسس ملک میں ایک خاموش مگر تباہ کن صحت عامہ کا بحران بن سکتا ہے۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x