لاہور کی تنگ و تاریک گلیوں سے عالمی اسٹیج تک: ’ٹیکن‘ پاکستانی نوجوانوں کی نئی پہچان

لاہور: بارش سے بھیگی ایک شام لاہور کے قدیم مگر مشہور آرکیڈ “Maniax” میں بجلی بار بار غائب اور جنریٹر کے شور کے درمیان نوجوان کھلاڑی ویڈیو گیم کنسول پر جھپٹتے، ککس اور پنچ کومبوز آزماتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہیں سے پاکستان کی وہ کہانی شروع ہوتی ہے جس نے دنیا بھر میں ای اسپورٹس کی دنیا کو چونکا دیا۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق ’’دنیا کے ٹاپ 10 ٹیکن پلیئرز میں سے تین کا تعلق پاکستان سے ہے‘‘۔ یہ کھلاڑی نہ صرف لاکھوں ڈالر کی انعامی رقوم جیت رہے ہیں بلکہ سعودی عرب کے بیکڈ ای اسپورٹس ٹیموں کا حصہ بن چکے ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں پلے اسٹیشن یا پی سی خریدنا اوسط ماہانہ آمدنی سے کہیں زیادہ مہنگا ہے اور بجلی کا تسلسل بھی مسئلہ ہے، یہ کامیابی عالمی سطح پر غیر متوقع سمجھی جاتی ہے۔

پاکستانی گیمنگ کمیونٹی کا سب سے بڑا نام آرسلان “ایش” صدیق ہے، جو لاہور سے تعلق رکھنے والا 30 سالہ کھلاڑی ہے۔ وہ روزانہ آٹھ گھنٹے پریکٹس کرتا ہے اور اب تک پانچ مرتبہ لگاتار EVO (Evolution Championship Series) جیت چکا ہے، جبکہ چھٹی بار لاس ویگاس میں ایک آل-پاکستان فائنل میں اپنے دوست عاطف بٹ کو شکست دے کر 12 ہزار ڈالر جیتے۔ سی این این نے آرسلان کے حوالے سے لکھا: “وہ ایک ایسا کھلاڑی ہے جو خاموشی مگر اعتماد کے ساتھ عالمی حریفوں کو شکست دیتا ہے، اور اب ریڈ بل کا پہلا پاکستانی ایتھلیٹ بھی ہے۔”

عاطف بٹ اور بواقر حیدر (گیمنگ نام Soul Dagger)، جو Maniax کے شریک بانی ہیں، کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آرکیڈ کلچر نے نوجوانوں کو ایسا پلیٹ فارم دیا جہاں نہ ذات دیکھنے کو ملی اور نہ ہی دولت، صرف مہارت۔ حیدر کے مطابق: “پاکستان کے کٹھن حالات نے ہمارے نوجوانوں میں ایک بے رحمی اور بھوک پیدا کی ہے، یہی بھوک انہیں دنیا سے آگے لے جاتی ہے۔”

آرسلان نے CNN کو بتایا کہ سب سے بڑی رکاوٹ ویزوں کی ہے: “چاہے ہم کتنے ہی باصلاحیت ہوں، اگر ہم باہر نہیں جا سکتے اور اپنی صلاحیت دکھا نہیں سکتے، تو سب بیکار ہے۔” اسپانسرز بھی اکثر اسی وجہ سے ہچکچاتے ہیں۔ اس پر حکومت کے نمائندے رانا مشہود، چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام، نے CNN کو بتایا کہ پاکستان پہلی بار ای اسپورٹس پالیسی تشکیل دینے جا رہا ہے، جس میں گیمینگ ایریناز اور کوورکنگ اسپیسز شامل ہوں گی۔

لاہور کی 21 سالہ لائبہ عدنان بھی ٹیکن سرکلز میں تیزی سے ابھر رہی ہیں۔ وہ آرسلان کی مداح ہیں مگر آرکیڈ کلچر میں خواتین کی جگہ نہ ہونے پر فکر مند ہیں۔ ان کا کہنا ہے: “آرسلان نے دنیا کو دکھایا ہے کہ پاکستانی 24/7 محنت کرتے ہیں۔ وہ میرے لیے بہت بڑی انسپائریشن ہے۔”

سی این این کے مطابق، مارچ 2025 میں جب پاکستانی ٹیم نے سیول میں جنوبی کوریا کو شکست دی تو ہال میں “لانگ لِو پاکستان” کے نعرے گونج رہے تھے۔ آرسلان نے اپنے خطاب میں کہا: “پاکستانی نوجوانوں کو اپنے خوابوں کی پیروی کرنی چاہیے اور دنیا کو اپنی صلاحیت دکھانی چاہیے۔” لاہور کے اپنے اسٹوڈیو میں ٹرافیوں کے درمیان بیٹھے آرسلان پرامید ہیں: “مستقبل روشن ہے۔”

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x