وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بجلی کے ویلنگ چارجز (Wheeling Charges) کو مناسب سطح پر لانے کے لیے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت اور فوری سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ یہ ہدایات توانائی کے شعبے میں نجی شعبے کے ورکنگ گروپ کے ایک اہم اجلاس کے دوران دی گئیں۔
اجلاس کا بنیادی مقصد صنعتوں کو سستی بجلی کی فراہمی اور توانائی کے شعبے میں ایسی اصلاحات لانا ہے جو ملکی معاشی ترقی میں معاون ثابت ہوں۔
اجلاس کے اہم نکات اور فیصلے:
- ویلنگ چارجز میں کمی: وزیراعظم نے وزیر پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری کو ہدایت کی کہ نجی بجلی کی ترسیل کے چارجز کو کم کیا جائے تاکہ صنعتیں براہ راست بجلی خرید سکیں۔
- علاقائی مسابقت: حکومت کی کوشش ہے کہ پاکستانی صنعتوں کو بجلی کے نرخ وہی ملیں جو خطے کے دیگر ممالک (جیسے بھارت، بنگلہ دیش اور ویتنام) میں رائج ہیں، تاکہ ہماری برآمدات عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کر سکیں۔
- ترسیلی نظام (Transmission) کی بہتری: بجلی کی ٹرانسمیشن اور وولٹیج کے نظام کو جدید اور قابل اعتماد بنانے کے لیے خصوصی سفارشات پیش کی گئیں۔
- قومی معاشی پروگرام: وزیراعظم نے واضح کیا کہ مختلف شعبوں کے ورکنگ گروپس کی سفارشات کی روشنی میں ایک جامع “قومی معاشی ترقی کا پروگرام” ترتیب دیا جائے گا۔
شرکاء اور کمیٹی کی کارکردگی:
اجلاس میں وفاقی وزراء محمد اورنگزیب، مصدق ملک، عطا تارڑ، احد چیمہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے شہزاد سلیم کی سربراہی میں کام کرنے والی نجی شعبے کی توانائی کمیٹی کی کاوشوں کو سراہا اور ان کی تجاویز کو معیشت کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
حکومت کی تمام تر توجہ اس وقت بجلی کے ٹیرف اسٹرکچر کو متوازن بنانے اور ترسیل کی مشکلات کو دور کرنے پر مرکوز ہے تاکہ عام صارف اور صنعت کار دونوں کو ریلیف مل سکے۔