اسلام آباد۔۔ پاکستان ٹیکسٹائل کونسل (پی ٹی سی) نے صنعتی بجلی ٹیرف میں عائد کراس سبسڈی کے خاتمے اور ٹائم آف یوز سسٹم پر نظرِثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ موجودہ توانائی قیمتوں کا ڈھانچہ برآمدی صنعت کی مسابقت کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔
پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت توقیر شاہ کو ارسال کیے گئے ایک خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ صنعتی صارفین پر سالانہ تقریباً 160 ارب روپے کی کراس سبسڈی کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے، جس کے باعث پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ کونسل کے مطابق پیک اور آف پیک ٹیرف میں موجود فرق نے بالخصوص تین شفٹوں میں کام کرنے والی صنعتوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
پی ٹی سی کا کہنا ہے کہ کراس سبسڈی اور ٹی او یو سسٹم کے باعث برآمدی صنعت کو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں مہنگی بجلی مل رہی ہے، جس سے پاکستان کی برآمدی مسابقت مسلسل کمزور ہو رہی ہے۔ اگر بجلی قیمتوں میں موجود بگاڑ کو فوری طور پر درست نہ کیا گیا تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
ٹیکسٹائل کونسل کے مطابق مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی کے دوران ٹیکسٹائل برآمدات میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ یورپی یونین، امریکا اور برطانیہ جیسی اہم منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی طلب میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
پی ٹی سی نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی مجموعی برآمدات اس وقت ایک “ہنگامی صورتحال” سے دوچار ہیں اور اس بحران سے نکلنے کے لیے فوری حکومتی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ کونسل کا زور ہے کہ برآمدی صنعت کے لیے کم لاگت، قابلِ پیش گوئی اور مسابقتی توانائی نظام کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ خطے میں بنگلہ دیش، ویتنام اور بھارت جیسے ممالک تیزی سے اپنی مسابقت بڑھا رہے ہیں، اور اگر پاکستان نے بروقت توانائی اصلاحات نہ کیں تو برآمدی شعبے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صنعتی بجلی ٹیرف میں کراس سبسڈی ختم کر کے پیک اور آف پیک اوقات کے نرخوں میں توازن پیدا کیا جائے، تاکہ برآمدی صنعت کو بحال کیا جا سکے اور ملک کی برآمدات دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوں۔