پنجاب میں پولیو کے قطرے نہیں، ٹیکے — 20 لاکھ بچوں کو ویکسین دینے کا ہدف

لاہور (ویب ڈیسک) — پنجاب میں پہلی بار پولیو کے قطروں کے بجائے ٹیکے لگانے کی مہم شروع کر دی گئی ہے۔ صوبائی حکومت کے مطابق اس مہم کا مقصد چار ماہ سے 15 سال تک کے تقریباً 20 لاکھ بچوں کو انجیکٹیبل پولیو ویکسین دینا ہے تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔
صوبائی وزیرِ صحت خواجہ عمران نذیر نے لاہور کی ان یونین کونسلوں میں مہم کا افتتاح کیا، جہاں پولیو وائرس کے ماحولیاتی نمونے مثبت پائے گئے تھے۔ حکام کے مطابق وائرس صرف کم عمر بچوں تک محدود نہیں رہا، اسی لیے اب بڑی عمر کے بچوں کو بھی ویکسین دینا ضروری سمجھا جا رہا ہے۔
پنجاب کے محکمہ صحت کے مطابق مہم میں 10 ہزار 800 سے زائد ویکسینیٹرز اور معاون عملہ حصہ لے رہا ہے، جن میں 2,700 ویکسینیٹرز، 2,700 معاون ارکان اور 4,800 کمیونٹی سپورٹ ورکرز شامل ہیں۔
محکمہ صحت کے ترجمان نے کہا کہ “پنجاب میں پولیو وائرس کے چند نشانات اب بھی موجود ہیں، لیکن ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک آخری بچے کو بھی ویکسین نہ لگ جائے۔”
حکام نے تسلیم کیا ہے کہ مہم کو کچھ چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں انجیکشن سے متعلق عوامی خدشات اور مہنگے آلات کی کمی شامل ہے۔
پولیو کے قطروں کے مقابلے میں انجیکشن والی ویکسین (Injectable Polio Vaccine – IPV) سائنسی لحاظ سے زیادہ محفوظ اور مؤثر سمجھی جاتی ہے کیونکہ اس میں وائرس کو مکمل طور پر غیر فعال یا مردہ کر دیا جاتا ہے، جبکہ قطروں (OPV) میں وائرس زندہ مگر کمزور حالت میں ہوتا ہے۔ زندہ وائرس بعض اوقات ایسے علاقوں میں جہاں ویکسین کوریج کم ہو، دوبارہ فعال ہو کر بیماری پھیلانے کا خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔ انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی ویکسین جسم میں گہرے مدافعتی ردِعمل کو ابھارتی ہے جو خون اور اعصاب تک مؤثر حفاظت فراہم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارۂ صحت نے اب ہر بچے کے لیے قطروں کے ساتھ ساتھ ایک انجیکشن لازمی قرار دیا ہے تاکہ پاکستان جیسے ممالک میں پولیو کے خاتمے کی کوششیں دیرپا اور مکمل ہو سکیں۔

1
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x