لاہور (واج نیوز ڈیسک)— پنجاب حکومت نے صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں میں نئی داخلہ پالیسی متعارف کرا دی ہے اور ساتھ ہی 2026 کے لیے نصاب اور درسی کتب میں نمایاں تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور اسکولوں میں بڑھتی ہوئی داخلہ طلب کو منظم کرنے کے لیے کیے گئے ہیں۔
محکمۂ اسکولز ایجوکیشن کے مطابق نئی پالیسی کے تحت داخلے کے اصول زیادہ شفاف اور یکساں بنائے گئے ہیں۔ پالیسی میں اسکولوں کی حدود، عمر کے تعین، داخلہ ٹائم لائن، اور ترجیحی بنیادوں پر طلبہ کے اندراج سے متعلق نکات کو واضح کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق بچوں کی عمر کا تعین پیدائش کے سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر کیا جائے گا تاکہ داخلوں میں کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔
اس کے ساتھ صوبے بھر کے لیے 2026 کا نیا نصاب اور درسی کتب بھی حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔ حکام کے مطابق نصاب کی نظرثانی کا مقصد جدید مہارتوں، سائنسی سوچ اور بنیادی خواندگی و حساب دانی کو تقویت دینا ہے۔ ابتدائی درجوں کے لیے مواد کو مزید سادہ، دلچسپ اور بچوں کی ذہنی سطح کے مطابق بنانے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔
محکمہ تعلیم نے بتایا کہ نئی کتب کی اشاعت اور تقسیم کا عمل مرحلہ وار ہو گا، اور کتابیں مقررہ وقت پر اسکولوں کو فراہم کر دی جائیں گی۔ نصاب کی تیاری کا عمل ماہرین تعلیم، اساتذہ اور مختلف تعلیمی اداروں کے مشورے سے انجام دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق نئی پالیسی کے نفاذ سے داخلہ عمل زیادہ منظم، مدارس میں رش کم اور تدریسی سرگرمیوں میں بہتری آنے کی توقع ہے۔ والدین نے مجموعی طور پر اس اقدام کو سراہا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ پالیسی کے بہتر نتائج تبھی سامنے آئیں گے جب اسکولوں میں اساتذہ کی کمی پوری کی جائے اور بنیادی سہولتیں بہتر بنائی جائیں۔