وزیراعلیٰ سندھ کا پولیو انکار کرنے والے والدین کے خلاف سخت اقدامات پر غور
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اعلان کیا ہے کہ ایسے والدین کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے جو اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کرتے ہیں۔ ان اقدامات میں موبائل سمز کی بندش، قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ معطل کرنا شامل ہوگا تاکہ ان والدین کو سفری اور مواصلاتی سہولتوں سے محروم رکھا جا سکے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں پولیو کے خاتمے سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا کہ انکاری والدین کے خلاف کارروائی کی جائے، کیونکہ یہ قومی ذمہ داری ہے جس سے پورا صوبہ اور ملک متاثر ہوتا ہے۔
انہوں نے پولیو ویکسین انکار سیل قائم کرنے کا حکم دیا اور محکمہ صحت کو ہدایت دی کہ یونین کونسل کی سطح پر ایسے والدین کی تفصیلات فراہم کرے تاکہ ان کے خلاف سماجی، سیاسی اور انتظامی سطح پر اقدامات کیے جا سکیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ سندھ میں نو نئے پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو ملک بھر کے 29 کیسز میں شامل ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ کیسز خیبرپختونخوا (18)، پنجاب اور آزاد کشمیر سے ایک ایک رپورٹ ہوئے۔ سندھ کے کیسز میں ٹھٹھہ اور بدین سے 2 جبکہ مٹھی، عمرکوٹ، حیدرآباد، قمبر اور لاڑکانہ سے ایک ایک کیس رپورٹ ہوا۔ کراچی اور ملیر کے کیسز خاص طور پر والدین کے انکار سے منسلک ہیں۔
اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ ستمبر کی مہم کے دوران دو لاکھ سولہ ہزار سے زائد بچے پولیو ویکسین سے محروم رہ گئے جن میں سے ایک لاکھ 81 ہزار بچے گھروں پر موجود نہیں تھے جبکہ 35 ہزار 522 بچوں کے والدین نے انکار کیا۔
وزیراعلیٰ نے سختی سے کہا کہ 13 اکتوبر سے شروع ہونے والی مہم کو “جنگی حکمت عملی” کے ساتھ چلایا جائے اور کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو افسر کارکردگی نہیں دکھائے گا وہ ٹیم کا حصہ نہیں رہے گا۔
مزید برآں وزیراعلیٰ سندھ نے چیف سیکریٹری کو ہدایت دی کہ انکاری والدین کے شناختی کارڈز، موبائل سمز اور پاسپورٹ بلاک کرنے کا منصوبہ پیش کریں تاکہ ان کے خلاف مؤثر کارروائی کی جا سکے۔
اجلاس میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، آئی جی غلام نبی میمن، کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔