سپریم کورٹ میں زیرِ التوا مقدمات میں نمایاں کمی

اسلام آباد۔۔سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیرِ التوا مقدمات کی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، 2025 میں زیرِ التوا مقدمات کی تعداد 60 ہزار 446 سے کم ہو کر 56 ہزار 169 رہ گئی ہے۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ 2015 میں زیرِ التوا مقدمات کی تعداد 25 ہزار سے زائد تھی، جو 2024 تک بڑھ کر 60 ہزار سے تجاوز کر گئی تھی۔ تاہم، حالیہ عدالتی اصلاحات اور انتظامی اقدامات کے نتیجے میں یہ بوجھ کم ہونا شروع ہو گیا ہے۔

چیف جسٹس کا بیک لاگ ختم کرنے پر فوکس

اعلامیے کے مطابق، اکتوبر 2024 میں چیف جسٹس نے عہدہ سنبھالتے ہی مقدمات کے بیک لاگ کو ترجیحی چیلنج قرار دیا۔ اس مقصد کے لیے ایک جامع عدالتی اصلاحاتی ایکشن پلان تشکیل دیا گیا، جس کے تحت جدید عدالتی ڈھانچے کی بنیاد رکھی گئی۔

ڈیجیٹل عدالتی نظام کی جانب پیش رفت

سپریم کورٹ نے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیتے ہوئے ڈیجیٹل فائلنگ اور آن لائن کیس ٹریکنگ سسٹم متعارف کرایا۔ اس نظام کے ذریعے مقدمات کی فائلنگ، نگرانی اور فیصلوں کے اجرا کے عمل میں شفافیت اور تیز رفتاری پیدا ہوئی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ الیکٹرانک کاپیوں کے اجرا سے عدالتی شفافیت میں اضافہ اور فریقین کو بروقت معلومات تک رسائی ممکن ہوئی ہے۔

بہتر کوآرڈی نیشن اور مؤثر فیصلے

مزید بتایا گیا کہ بینچز اور رجسٹریز کے درمیان کوآرڈی نیشن کو مضبوط بنایا گیا ہے، جس کے باعث عدالتی عمل میں تسلسل اور کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔ ڈیٹا پر مبنی فیصلوں اور عدالتی وسائل کے مؤثر استعمال نے مجموعی کارکردگی میں اضافہ کیا ہے۔

عوامی اعتماد کی بحالی کی جانب اہم قدم

اعلامیے کے مطابق، سپریم کورٹ کی حالیہ کارکردگی عوامی اعتماد کی بحالی کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے۔ انصاف اب زیادہ شفاف، تیز اور عوام دوست انداز میں فراہم کیا جا رہا ہے، جو عدلیہ کی ساکھ میں بہتری کا واضح ثبوت ہے۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x