فی زمانہ کانٹینٹ بھلے پہلے اخبار میں چھپے یا ویب سائٹ پر اور یا پھر ٹی وی یا ریڈیو پر چلے، اس کی اصل منزل سوشل میڈیا ہی ہے۔ خبروں کے لیے بھی صارفین کی اولین ترین ترجیح سوشل میڈیا ہی ہے۔ آج ایک دوست نے جرم و جنس و سنسنی بیچنے والے یوٹیوبرز اور بی بی سی جیسی موقر ویب سائٹ کے مضامین میں اشتراک کی بابت لکھا۔
سوشل میڈیا سماجی اور ہلکی پھلکی گپ شپ ہے جب کہ نیوز اور ویوز میڈیا ایک سیریئس وینچر ہے۔ سوشل میڈیا کا الگورتھم اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ صرف ہلکے پھلکے موضوعات پر ہلکی بات کرے۔ موضوع بھاری بھی ہو جائیں تو بات ہلکی ہی رہنی چاہیے۔ جنس، جرم، کھابے، نشے، تصویریں، سکینڈل، سازشی کہانیاں، بے سروپا شاعری، گھسے پٹے اقوال زریں و سیمیں و فولادی، چھوٹی سی بات یا چیز کو مرچ مسالہ لگانا یا کسی سیاسی جماعت اور لیڈر کی یا ان کے لیے ٹرولنگ جس میں واہ واہ ہو یا گالیاں۔ مذہبی جماعتوں، دھڑوں اور شخصیات کی ٹرولنگ اور صدیوں سے چلنے یا نئے اگنے والے نسلی، لسانی، فرقہ ورانہ اور مذہبی تنازعات پر انتہائی غیر محتاط گفتگو یہ سب وہ کام ہیں جو لوگ باگ بے تکلف دوستوں کی محفل میں بے دھڑک بلا کسی خوف تصدیق و تردید و تعذیب و پچھ پرتیت وغیرہ کے کرتے آئے ہیں۔ اب سوشل میڈیا پر کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی پروموشن نے ان موضوعات کو ایسا سر چڑھایا ہے کہ تاثر یہ ملنے لگا ہے کہ ان موضوعات سے باہر یا ان کے اندر بھی کوئی سنجیدہ فکر و مکالمہ اور تحریروتقریر موجود ہی نہیں۔ ظاہر ہے سنجیدہ اور فکری سماجی نشستیں بھی ہوتی ہیں مگر ان میں لوگوں کی دلچسپی پہلے بھی کم تھی اور اب تو شاید مزید کم ہو گئی ہے۔ کتابوں کے میلے میں بھی ان لوگوں سے تقریریں کروانا پڑتی ہیں جنہوں نے سکول کے بعد کسی بھی کتاب کو ہاتھ بھی نہیں لگایا ہوتا۔
گئے دنوں میں بھی نہاد مین سٹریم میڈیا یہ سب کچھ چلاتا تھا مگر اسے یہ تکلف کرنا پڑتا تھا کہ وہ لوگوں کی بے تکلفانہ سوشل گفتگو کی سطح کے خیالات کو مناسب الفاظ کا ملمع چڑھا دے۔ ایک حد تک اب بھی کرنا پڑتا ہے مگر مقابلہ کڑا ہے۔ ایڈورٹزمنٹ کا غالب ترین حصہ سوشل میڈیا پر منتقل ہو چکا ہے۔ اب ہر چینل، ویب سائٹ اور اخبار کے پاس زکر برگ اور مسک کے مارکیٹنگ ایجنٹ بننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں اور سوشل پلیٹ فارمز ڈیزائن ایسے کیے گئے ہیں کہ یہ سنجیدہ کانٹینٹ کو صارفین تک نہ پہنچنے دیں اور پھکڑپن کو پروموٹ کریں۔
یہی مجبوری ہے کہ بظاہر سنجیدہ میڈیا پلیٹ فارمز بھی مضامین کے انتخاب میں سوشل میڈیا کا عکس ہی بن گیے ہیں اور انفرادی سطح پر بھی اپنے زمانے کے کتاب دوست اور دانشور صحافی بھی دلیے اور نسخے بیچتے پائے جاتے ہیں۔ تھوڑا غور سے مشاہدہ کریں تو پتا چلتا ہے کہ اپنے زمانے میں بڑے بڑے کارنامے کرنے والے عالی دماغ صحفاء کی صحافت بھی اب کسی گزرے واقعے پر طنزیہ تبصروں سے آگے پیچھے نہیں ہوتی جن پر بہت واہ واہ ہوتی ہے۔ سوء ظن کی قنوطیت اوڑھی جائے تو لگتا ہے کہ ان کے مضامیں کے انتخاب میں بھی واہ واہ ایک فیصلہ کن عنصر ہوتا ہے۔
سنجیدہ کام تو ظاہر ہے اب بھی ہو رہا ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا دونوں کے ذریعے ہو رہا ہے مگر اسے کمپنی کبھی آنکھیں فراہم نہیں کرتی اور نہ کرے گی۔ اس کے لیے کچھ اور سوچنا پڑے گا۔
ڈیر رشید شکریہ نہائت اہم پہلو پر بڑا اظہار فرمایا ہے ۔
ہمارا سوشل میڈیا بھی اب شدید کمرشل ازم کا شکار ہو رہا ہے۔
وہ میدان جہاں ہر کوئی اپنی بساط کے مطابق اپنا دکھ سکھ اپنا اندر باہر اپنا ظاہر اور پوشیدہ مسلۂ آسانی سے اپنے دوسرے دوستوں ممبران یا قارئین تک پہنچا لیتا تھا ۔ اتنا مشکل ہو گیا ہے کہ کبھی سرکار اور کبھی بے کار کبھی خود سوشل میڈیا کا پلیٹ فارم جو کبھی منتیں کرتا تھا کہ فل کی بات کریں جو سوال ہے اٹھائیں ہم نہُ آپ جو ہوچھیں گے نہ آپ کو روکیں گے ۔ اب ہزار قسم کے فلٹر سے ہو کر میرا گڈ مارننگ کہنا میرے چند دوستوں تک پہنچتا ہے ۔حد تو یہ ہے کہ میری ایک تصویر میرے دوست کے ساتھ پارک میں میرے ہی موبائل سے بنائی گئی ۔ نہ تو وہ نیوڈ تھی نہ گنڈا دا ہاتھ میں پکڑا تھا نہ توپ پر بیٹھے تھے فیس بک نے یہ کیہ کر ڈیلیٹ کر دی کہ یہُ اس کے کمیونٹی سٹنڈرڈ پر پوری نہیں اترتی ۔ “ہے نہ حد “
دراصل یہ ہی حد ہے فیس بک والوں نے مجھے عندیہ دیا ہے یہ جو تم روز نئی نئی قسم کے سنسنی حقوق لیبر رائیٹ اور عوامی مطالبات اور احتجاج کی تصویر بنا کر لوگوں کو گمراہ کرتے ہو ۔ اس سے ہمارا کاروباری نقصان کا خدشہ ہے ۔
اب مجھے سمجھ آگئی ئے کہ کس طرح کا کانٹینٹ ہماری سرکار اور بے کار سوشل میڈیا پر پسند فرماتے ئیں ۔ اور اگر وہ کسی مخصوص علاقے شہر صوبے میں نا پسند ہوگا تو نہیں جمے گا ۔
ٹھیک ہی تو کہتے ہیں کون اپنی دکانداری میں بغیر کرایہ اور بغیر ان کی مرضی کا کاروبار کرنے دیتا ہے ۔
تو جناب اب کانٹنٹ بہت سادہ چند الفاظ پر مشتمل نہائت جامع اور موثر بنانا پڑے گا اس کے لئے نئی ڈکشنری جو صرف چند الفاظ پر مشتمل ہو دیواروں پر چاکنگ کرا کے عوام کے دماغ میں اور دل میں نقش کرنی ہوگی ۔
جیسے “ میرا تھوڑا حق مجھے دو اپنا لوٹ کھسوٹ جاری رکھو”
جیسے “سکول سے سیدھے کلب جانا جلسہ گاہ نہیں”
جیسے” میں نے جان بوجھ کر جبری مشقت دینے والی مزدوری کر لی ہے “
جیسے “انصاف کی فراہمی عدلیہ کا کام تو نہیں یہ صرف قاضیُ کا کام ہے ۔
اب بس کرتا ہوں میڈیا والوں کو بھی موقع دوں وہ یہ پڑھ لیں باقی پھر لکھوں گا اگر اجازت ملی۔ ویسے واج دینے کی ہمت ابھی جٹا رہا ہوں ۔