اسلام آباد، ستمبر 16: پاکستان کی جانب سے خوراک کی مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے مقرر کردہ سرکاری نرخ اب بے اثر ہو گئے ہیں کیونکہ ملک کے بڑے شہروں میں گندم اور آٹے کی قیمتیں حکومت کے متعین کردہ نرخوں سے کہیں زیادہ پر جا چکی ہیں۔ میٹس گلوبل نیوز میں چھپنے والے ایک تجزیے کے مطابق گندم اور آٹے کی قیمتیں بحران د بحران کا شکار ہو رہی ہیں۔
پنجاب حکومت نے گندم کی سرکاری قیمت 3,000 روپے فی من مقرر کی ہے اور پبلک سیکٹر کے ذخائر کو قدرے کم ریٹ یعنی 2,900 روپے فی من پر جاری کرنے کی تجویز دی ہے۔ صارفین کے لیے مقررہ قیمت 20 کلو آٹے کے تھیلے کی 1,810 روپے اور 10
کلو کے تھیلے کی 905 روپے رکھی گئی ہے۔ ایک روٹی کی قیمت 14 روپے مقرر ہے۔
تاہم کھلی منڈی کی صورتحال ان کنٹرول شدہ نرخوں سے بالکل مختلف ہے۔ اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت 3,100 روپے فی من سے تجاوز کر گئی ہے۔ صرف ایک ماہ میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت تقریباً 500 روپے بڑھ گئی اور اب 2,000 سے 2,400
روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔ 10 کلو کا تھیلا بھی 1,000 سے 1,200 روپے میں مل رہا ہے۔
آن لائن ریٹیل ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ برانڈڈ آٹے کا 20 کلو تھیلا 3,340 روپے تک کا پڑ سکتا ہے، جو کھلی منڈی کی افراتفری کو نمایاں کرتا ہے۔
قیمت کا فرق ظاہر کرتا ہے کہ حکومت کی فکسڈ پرائسنگ پالیسی مؤثر ثابت نہیں ہو رہی۔ اصل وجہ یہ ہے کہ سرکاری ریٹ پر دستیاب آٹے کی سپلائی طلب سے کم ہے۔
مزید اس بارے میں: گندم کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ، مختلف منڈیوں میں الگ…
پنجاب میں قیمتوں کا فرق (ستمبر 2025)
• گندم (40 کلو): سرکاری قیمت 3,000 روپے | پی بی ایس قیمت 3,253–4,340 روپے | عام مارکیٹ ریٹ 4,000 روپے
• 20 کلو آٹا تھیلا: سرکاری قیمت 1,810 روپے | مارکیٹ ریٹ (راولپنڈی/اسلام آباد) 2,400 روپے
• فی کلو آٹا: سرکاری ریٹ 90.5 روپے | کراچی میں 110–120 روپے
بحران کا آغاز پنجاب حکومت کے اس فیصلے سے ہوا جب اس نے 2.3 ملین ٹن کےپچھلے سٹاک کی دستیابی کا حوالہ دے کر گندم کی خریداری کا ہدف آدھا کر دیا۔ اس فیصلے نے منڈی میں کھلبلی مچا دی اور گندم کی قیمتیں 3,000 سے 3,100 روپے تک گر گئیں، جو کہ 2024-25 کے مقررہ 3,900 روپے فی من سپورٹ پرائس سے کم تھیں۔
اس پالیسی نے کسانوں کو مالی نقصان پہنچایا۔ بعد ازاں حکومت نے انٹر پروونشل گندم ٹرانسپورٹ پر دفعہ 144 لگا کر پابندی عائد کی، جسے دیگر صوبوں کے فلور مل مالکان نے غیر آئینی اور “معاشی دہشتگردی” قرار دیا۔ یہ تضادات ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت “فائر فائٹنگ” انداز میں فیصلے کرتی ہے اور ایک مسئلے کو حل کرنے کی کوشش میں دوسرا بحران پیدا کر دیتی ہے۔
حالیہ شدید بارشوں اور سیلابوں نے گندم کی سپلائی کو بڑا دھچکا پہنچایا ۔ اندازہ ہے کہ متاثرہ علاقوں 30 فیصد ذخائر تباہ یا متاثر ہوئے ہیں، جس سے قلت کا خوف پھیل گیا ہے۔
یہ صورتحال “کلائمٹ فلیشن” کہلائی جا رہی ہے، یعنی موسمیاتی جھٹکے خوراک کی پیداوار گھٹا کر قیمتیں بڑھا دیتے ہیں۔ اس کا حل صرف مالیاتی پالیسی سے ممکن نہیں بلکہ موسمیاتی مزاحمتی انفراسٹرکچر اور کلائمٹ اسمارٹ زراعت کی اشد ضرورت ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کھلے عام “مافیا” پر ذخیرہ اندوزی اور منڈی میں ہیر پھیر کے الزامات لگائے اور حکومت نے سخت کریک ڈاؤن کا اعلان کیا۔ مگر ماہرین کے مطابق ذخیرہ اندوزی محض لالچ نہیں بلکہ حکومتی پالیسی کی ناکامی کا نتیجہ ہے، جو سستے داموں گندم خرید کر مہنگے داموں بیچنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
پاکستان میں گندم کے درآمد کنندگان نے خدشہ ظاہر کیا…
قیمتوں میں اضافے کا سب سے زیادہ بوجھ غریب اور متوسط طبقے پر پڑ رہا ہے۔ روٹی کی قیمت میں اوسطاً 2 روپے کا اضافہ معمولی لگتا ہے مگر کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے یہ بجٹ کو مزید تنگ کر دیتا ہے۔
پنجاب حکومت نے جولائی 2025 میں پرائس کنٹرول کے لیے پنجاب انفرسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (PERA) قائم کی، جس کے تحت 8,000 سے زائد اہلکاروں کو ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی کی ذمہ داری دی گئی۔ تاہم اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ قیمتیں بدستور بڑھ رہی ہیں اور نفاذ کی کوششیں غیر مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔
پاکستان بیورو آف سٹیسٹکس (پی بی ایس ) کا سینسٹو پرائس انڈیکس (SPI) حقیقی مارکیٹ صورتحال کی عکاسی کرتا ہے اور پالیسی ساز اداروں کے لیے ضروری رہنمائی فراہم کرتا ہے، تاکہ مہنگائی پر مؤثر فیصلے کیے جا سکیں۔