پیاز کاٹنا ایک روزمرہ کا عمل ہے جو تقریباً ہر انسان کی آنکھوں میں آنسو لے آتا ہے، لیکن ان آنسوؤں کا جذبات سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ سراسر کیمیاوی ردعمل کا نتیجہ ہے۔ پیاز کے خلیات میں موجود ایک پیچیدہ دفاعی نظام چھری لگتے ہی سرگرم ہو جاتا ہے جو دراصل پودے کے ارتقائی سفر کا حصہ ہے تاکہ اسے دشمنوں سے بچایا جا سکے۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق جب پیاز ثابت ہوتی ہے تو اس کے اندر موجود گندھک کے مرکبات الگ الگ رہتے ہیں، لیکن چھری چلتے ہی پیاز کے خلیات ٹوٹ جاتے ہیں اور پولی فینول آکسیڈیز جیسے خامرے فینولز کے ساتھ مل کر ایک تکسیدی زنجیری ردعمل شروع کر دیتے ہیں۔ ہیلتھ لائن کی تحقیق کے مطابق یہ عمل سیکنڈوں میں مکمل ہوتا ہے جہاں ایلی نیز نامی خامرہ گندھک والے امینو ایسڈز پر اثر انداز ہو کر غیر مستحکم مالیکیولز پیدا کرتا ہے جو تیزی سے ایک اڑنے والی گیس یعنی سن پروپانیتھائل ایس آکسائیڈ میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ یہ گیس ہوا میں پھیل کر جب آنکھوں کی نمی سے ملتی ہے تو ہلکا تیزاب بن جاتی ہے جسے انسانی آنکھ ایک کیمیائی خطرے کے طور پر محسوس کرتی ہے۔ اس خطرے کے جواب میں آنکھیں فوری طور پر حفاظتی آنسو پیدا کرتی ہیں تاکہ اس جلن پیدا کرنے والے مادے کو دھو کر صاف کیا جا سکے، یہی وجہ ہے کہ یہ آنسو جذباتی آنسوؤں سے بالکل مختلف اور میکانکی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پیاز کو کاٹنے سے پہلے ٹھنڈا کرنے سے خامروں کی سرگرمی سست ہو جاتی ہے، جبکہ تیز چھری کا استعمال اور بہتر نکاسِ ہوا کے ذریعے اس گیس کے ارتکاز کو کم کر کے آنسوؤں سے بچا جا سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جو مرکبات آنسوؤں کا سبب بنتے ہیں وہی پیاز کو اس کا مخصوص ذائقہ اور خوشبو بھی عطا کرتے ہیں، جو پکنے کے بعد حرارت کی وجہ سے اپنی تاثیر بدل لیتے ہیں۔
پیاز کاٹتے وقت آنکھوں سے آنسو کیوں آتے ہیں؟ پودوں کے دفاعی نظام اور انسانی حیاتیات کی دلچسپ کیمسٹری
-
By Web Desk
- January 14, 2026
Show Comments (0)
Hide Comments (0)
0
0
votes
Article Rating
Subscribe
Login
0 Comments
Oldest
Newest
Most Voted