کوئٹہ۔۔۔۔بلوچستان میں کوئٹہ سمیت12 مختلف مقامات پر فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نیبزدلانہ حملے کیے، فورسز نے بروقت کارروائی کرکے تمام ناکام بنا دیئے، 10 جوان مادرِ وطن پر قربان ہو گئے، 58 دہشت گرد جہنم واصل کر دیئے گئے، دو روز میں 80 سے زائد دہشت گرد مارے گئے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق سیکورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بروقت اور موثر کاروائی کے نتیجے میں یہ تمام حملے ناکام بنا دیئے ہیں، دہشت گردوں کی مزید ہلاکتوں اور نقصانات کی بھی اطلاعات ہیں، تعاقب جاری ہے۔ سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ فتنہ الہندوستان کے انسان نما بھیڑیوں نے گوادر میں خضدار سے تعلق رکھنے والے ایک بلوچ مزدور خاندان کے 5 افراد کو بھی شہید کر دیا جن میں ایک خاتون کے علاوہ تین بچے بھی شامل ہیں، سکیورٹی فورسز کی طرف سے دہشت گردوں کے تعاقب میں آپریشنز اور فضائی نگرانی جاری ہے۔خیال رہے کہ ان دہشت گردانہ کارروائیوں کے دوران ہندوستانی میڈیا اور سوشل میڈیا کی فتنہ الہندوستان کی مکمل سپورٹ دونوں کے گٹھ جوڑ کو مزید واضح کرتی ہے۔ یاد رہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے پہلے بھی گزشتہ 48 گھنٹوں میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اس کے علاوہ کارروائیوں کے دوران فتنہ الہندوستان کے 41 دہشت گرد جہنم واصل کر چکے ہیں۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بی ایل اے سے وابستہ غیر ملکی سرپرستی یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کی جانب سے دہشت گردی کی ناقص منصوبہ بندی پر مبنی متعدد کارروائیاں کی گئیں، جنہیں پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے تمام مقامات پر فوری اور موثر کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنایا، کئی دہشت گردوں کو ہلاک کیا اور چند گھنٹوں کے اندر صورتحال پر مکمل طور پر قابو پالیا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ حملے فتنہ الہندوستان نامی نیٹ ورک نے کیے، جو بی ایل اے کا غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گرد دھڑا ہے تاہم فتنہ الہندوستان سے منسلک پروپیگنڈا نیٹ ورکس اور بھارتی میڈیا کی جانب سے کیے گئے دعوئو ں کے برعکس یہ حملے کسی قسم کا مثر نتیجہ حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے، فورسز نے دہشت گردوں کا ہیروف 2.0 مکمل ناکام بنا دیا۔کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ میں دہشت گردوں نے پولیس وین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، پولیس اہلکاروں نے فوری جوابی فائرنگ کی جبکہ فرنٹیئر کور کے دستوں نے علاقے میں پہنچ کر کارروائی کو مضبوط بنایا، اس دوران چار دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے اور علاقہ مکمل طور پر کلیئر کر لیا گیا۔نوشکی میں دہشت گردوں نے ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملے کی کوشش کی، تاہم چوکس اہلکاروں نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کو بغیر کسی نقصان کے فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔دالبندین میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملے کی کوشش کے دوران کم از کم دو دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی شروع کی، کلیئرنس آپریشن کے دوران صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں رہی۔قلات میں دہشت گردوں نے ڈپٹی کمشنر کے دفتر اور پولیس لائنز کو نشانہ بنانے کی ناکام کوشش کی، جس کے نتیجے میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا، سکیورٹی فورسز نے موثر جواب دیتے ہوئے حملہ آوروں کو بھاری نقصان پہنچایا اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روک دیا۔پسنی میں دہشت گردوں نے پاکستان کوسٹ گارڈز کی تنصیب پر دور سے فائرنگ کی کوشش کی، جبکہ گوادر میں ایک مزدوروں کی کالونی کو نشانہ بنایا گیا، دونوں مقامات پر پولیس اور ایف سی نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملوں کو ناکام بنا دیا۔اسی طرح بلوچہ، تمپ، مستونگ اور خاران میں سکیورٹی پوسٹس پر بیک وقت دستی بم حملے اور دور سے فائرنگ کی گئی، جنہیں سکیورٹی فورسز نے کامیابی سے پسپا کر دیا۔سکیورٹی حکام کے مطابق بلوچستان بھر میں مجموعی صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے، صرف 2 سے 3 سکیورٹی اہلکاروں کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آئیں، جبکہ کسی بھی سٹریٹجک تنصیب کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔یہ حملے حالیہ انسدادِ دہشت گردی آپریشنز کے بعد کیے گئے، جن میں بلوچستان بھر میں 50 سے زائد دہشت گرد ہلاک کیے گئے تھے، سکیورٹی ذرائع کے مطابق تازہ کارروائیاں دہشت گردوں کی بھاری ناکامیوں کا ازالہ کرنے کی ایک ناکام اور بوکھلاہٹ پر مبنی کوشش تھیں، جو ایک بار پھر بری طرح ناکام ہو گئیں۔خیال رہے کہ تشدد کی ان کارروائیوں کی ذمہ داری براہِ راست بشیر زیب بلوچ، اللہ نذر اور جلا وطن حربیار مری پر عائد کی گئی ہے، جو پاکستان سے باہر، بالخصوص افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں سے کارروائیاں چلا رہے ہیں، بی ایل اے اور بی ایل اے ایف پاکستانی قانون کے تحت کالعدم تنظیمیں ہیں، جبکہ بی ایل اے کو امریکہ بھی غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق بی ایل اے کی قیادت بیرونِ ملک محفوظ زندگی گزار رہی ہے، جبکہ بلوچ نوجوانوں کو خودکش حملوں اور براہِ راست سکیورٹی فورسز پر حملوں جیسے انتہائی خطرناک کاموں میں دھکیلا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں انہیں ہلاکتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان ناکام حملوں، اندرونی اختلافات اور گروہی جھڑپوں میں مارے جانے والوں کو بعد ازاں بی ایل اے اور بی ایل ایف سے منسلک پروپیگنڈا نیٹ ورکس (بی وائی سی اور بی این ایم) کی جانب سے زبردستی لاپتا افراد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے مزدوروں کی بستیوں اور مخلوط آبادی والے علاقوں جیسے نرم شہری اہداف کو نشانہ بنانا ان کے مجرمانہ کردار کو مزید بے نقاب کرتا ہے، جو بلوچ عوام کی نمائندگی کے ان کے دعوں کی صریح نفی ہے۔ حکام کے مطابق بڑھا چڑھا کر کیے گئے دعوئو ں کے باوجود ہیروف 2.0 کا نتیجہ ناقص منصوبہ بندی، کمزور عملدرآمد اور سکیورٹی فورسز کے پیشہ ورانہ اور تیز ردِعمل کے سامنے مکمل شکست کی صورت میں نکلا، اس مہم نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ مسلح تشدد بے سود ہے اور بلوچستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس مزید تنہائی کا شکار ہو چکے ہیں۔پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے تمام شہریوں، بالخصوص کمزور طبقات کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ غیر ملکی سرپرستی یافتہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیاں جاری رہیں گی۔حکام کے مطابق اصل ذمہ داری بی ایل اے اور بی ایل اے ایف کی بیرونِ ملک بیٹھی دہشت گرد قیادت اور ان کے غیر ملکی سرپرستوں پر عائد ہوتی ہے، جن کی وجہ سے بلوچ نوجوانوں کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں، جبکہ بلوچستان کے عوام کو نہ کوئی ترقی مل رہی ہے اور نہ ہی ریلیف مل رہا ہے، پاکستان دہشت گردی کے خلاف متحد ہے۔ وزیرِ اعلی بلوچستان کے مشیر شاہد رند نے کہا ہے کہ بلوچستان میں چند مقامات پر دہشت گردوں نے حملوں کی کوشش کی ہے جسے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ناکام بنا دیا ہے جبکہ دوسری جانب کوئٹہ شہر میں دھماکوں اور فائرنگ کے بعد ریڈ زون کو سیل کر دیا گیا ہے۔شاہد رند کے ایکس اکاونٹ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ دو روز میں بلوچستان میں مختلف مقامات پر 70 سے زائد دہشت گردوں کے مارے جانے کے بعد بلوچستان میں چند مقامات پر دہشت گردوں نے حملے کی کوشش کی ہے جس کو پولیس اور ایف سی نے بروقت کارروائی کر کے ناکام بنا دیا ہے۔شاہد رند کا مزید کہنا ہے کہ اس وقت بھاگنے والے شدت پسندوں کا تعاقب جاری ہے اور مزید تفصیلات بہت جلد سامنے لائی جائیں گی۔ اس دوران ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذکردی گئی، کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں موبائل انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ۔ کوئٹہ سے اندرون ملک اور اندرون صوبہ چلانے والی تمام ٹرینیں معطل کردی گئیں۔ریلوے ذرائع کے مطابق کوئٹہ سے پنجاب جانے والی جعفرایکسپریس، کراچی جانے والی بولان میل سروس اور کوئٹہ سے چمن جانے والی چمن پسنجر ٹرین معطل کردی گئی ہے۔انہو ں نے مزید بتایا کہ پشاور سے آنے والی جعفر ایکسپریس کو جیکب آباد پر روک لیا گیا تھا تاہم متاثرہ مسافروں کا ٹکٹ واپس کیا جائے گا۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان میں مادرِ وطن پر قربان ہونے والے 10 جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے عفریت کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رکھیں گے۔وزیراعظم ہائوس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے فتنہ الہندوستان کی جانب سے بلوچستان کے امن کو نشانہ بنانے کی مزموم کوشش کو بری طرح ناکام بنانے اور دشمن کے ارادوں کو خاک میں ملانے پر سکیورٹی فورسز کے افسران و جوانوں کی پذیرائی کی۔انہوں نے کوئٹہ، نوشکی، دالبندین، پسنی اور گوادر میں 12 مقامات پر فتنہ الہندوستان کے منظم حملوں کو ناکام بنانے اور 58 دہشت گردوں کو جہنم رسید کرنے پر سکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کی۔وزیراعظم نے گزشتہ 48 گھنٹوں میں مختلف آپریشنز میں بھارتی پشت پناہی میں سرگرم 88 دہشت گردوں کو جہنم رسید کرنے پر ارض وطن کے محافظوں کو خراج تحسین پیش کیا اور شہدا کی بلندی درجات اور ان کے اہل خانہ کیلئے صبر کی دعا کی۔وزیراعظم نے کہا کہ مجھ سمیت پوری قوم کو اپنے شہدا پر فخر ہے، سکیورٹی فورسز کے افسران و جوان اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر ارض وطن کی حفاظت میں مصروف عمل ہیں۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حملے ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراج تحسین کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بہادر سپوتوں نے بروقت اور موثر کارروائی کرکے 37 دہشتگردوں کو جہنم رسید کیا،دہشتگردوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے والے بہادر سپوتوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ یہ بھی پڑھیں:اہم معاشی سنگِ میل عبور، پاکستان نے تاریخ بدل دی وزیرداخلہ محسن نقوی نے حملے ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہا اور جام شہادت نوش کرنے والے 10 جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بہادر سپوتوں نے جان دے کر بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا، قوم کو اپنے بہادر بیٹوں پر ناز ہے۔ جام شہادت نوش کرنے والے جوان قوم کے ہیرو ہیں، شہدا کی عظیم قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ادھر وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں بم دھماکے کے مقام کا دورہ کیا اور سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔وزیراعلی بلوچستان نے سکیورٹی فورسز اور پولیس کے جوانوں سے ملاقات کی، پولیس اور سی ٹی ڈی کے فوری اور مثر ردعمل پر بہادر جوانوں کو شاباش دی۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف بروقت رسپانس قابل ستائش ہے، ریاست دشمن عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا، بلوچستان میں امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ایکس پر وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے لکھا کہ گزشتہ 12 ماہ میں بلوچستان میں سیکورٹی فورسز نے 700 سے زائد دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا ہے، صرف گزشتہ دو دن میں 70 کے قریب دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہفتہ کی علی الصبح فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے اپنے گرتے ہوئے مورال کو بچانے کے لئے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں حملوں کی کوشش کی جس کو بلوچستان کی بہادر پولیس اور ایف سی کے جانباز سپاہی مل کر ناکام بنا رہے ہیں اور اب تک درجنوں دہشت گرد ہلاک کر چکے ہیں۔وزیراعلی بلوچستان نے کہا کہ یہ حملے دہشتگردی کے خلاف ہمارے عزم کو ختم نہیں کر سکتے، ہم آخری دہشت گرد تک پیچھا جاری رکھیں گے۔دوسری جانب وزیراعلی سندھ سیدمراد علی شاہ نے بلوچستان میں حملے ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیاہے۔وزیراعلی سندھ سیدمرادعلی شاہ نے 58 دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو شاباش اوروطن کی خاطر بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہونے والے 10 اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیاہے۔وزیراعلی سندھ سیدمرادعلی شاہ کاکہناہے کہ شہید اہلکاروں نے اپنی جان پر وطن کی حفاظت کو ترجیح دی،قوم ان کی مقروض ہے،دہشت گردوں کا تعاقت جاری رکھا جائیگا،اور زمین پر انہیں جائے پناہ نہیں ملے گی۔ وزیراعلی سندھ نے کہاکہ وطن عزیز کو دہشت گردی سے ہر صورت پاک کیا جائیگا۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد حملوں کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیاہے۔چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے دہشت گرد حملوں کو ناکام بنانے پر پولیس اور سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ ہماری سکیورٹی فورسز نے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردی نیٹ ورک کی کمر توڑ دی،سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں کے بعد بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں 10 پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی شہادت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے شہید اہلکاروں کے خاندانوں سے دلی تعزیت و یکجہتی کا اظہارکیاہے۔ کے دہشت گردوں نے
بزدلانہ حملے کیے، فورسز نے بروقت کارروائی کرکے تمام ناکام بنا دیئے، 10 جوان مادرِ وطن پر قربان ہو گئے، 58 دہشت گرد جہنم واصل کر دیئے گئے، دو روز میں 80 سے زائد دہشت گرد مارے گئے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق سیکورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بروقت اور موثر کاروائی کے نتیجے میں یہ تمام حملے ناکام بنا دیئے ہیں، دہشت گردوں کی مزید ہلاکتوں اور نقصانات کی بھی اطلاعات ہیں، تعاقب جاری ہے۔ سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ فتنہ الہندوستان کے انسان نما بھیڑیوں نے گوادر میں خضدار سے تعلق رکھنے والے ایک بلوچ مزدور خاندان کے 5 افراد کو بھی شہید کر دیا جن میں ایک خاتون کے علاوہ تین بچے بھی شامل ہیں، سکیورٹی فورسز کی طرف سے دہشت گردوں کے تعاقب میں آپریشنز اور فضائی نگرانی جاری ہے۔خیال رہے کہ ان دہشت گردانہ کارروائیوں کے دوران ہندوستانی میڈیا اور سوشل میڈیا کی فتنہ الہندوستان کی مکمل سپورٹ دونوں کے گٹھ جوڑ کو مزید واضح کرتی ہے۔ یاد رہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے پہلے بھی گزشتہ 48 گھنٹوں میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اس کے علاوہ کارروائیوں کے دوران فتنہ الہندوستان کے 41 دہشت گرد جہنم واصل کر چکے ہیں۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بی ایل اے سے وابستہ غیر ملکی سرپرستی یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کی جانب سے دہشت گردی کی ناقص منصوبہ بندی پر مبنی متعدد کارروائیاں کی گئیں، جنہیں پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے تمام مقامات پر فوری اور موثر کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنایا، کئی دہشت گردوں کو ہلاک کیا اور چند گھنٹوں کے اندر صورتحال پر مکمل طور پر قابو پالیا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ حملے فتنہ الہندوستان نامی نیٹ ورک نے کیے، جو بی ایل اے کا غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گرد دھڑا ہے تاہم فتنہ الہندوستان سے منسلک پروپیگنڈا نیٹ ورکس اور بھارتی میڈیا کی جانب سے کیے گئے دعوئو ں کے برعکس یہ حملے کسی قسم کا مثر نتیجہ حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے، فورسز نے دہشت گردوں کا ہیروف 2.0 مکمل ناکام بنا دیا۔کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ میں دہشت گردوں نے پولیس وین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، پولیس اہلکاروں نے فوری جوابی فائرنگ کی جبکہ فرنٹیئر کور کے دستوں نے علاقے میں پہنچ کر کارروائی کو مضبوط بنایا، اس دوران چار دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے اور علاقہ مکمل طور پر کلیئر کر لیا گیا۔نوشکی میں دہشت گردوں نے ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملے کی کوشش کی، تاہم چوکس اہلکاروں نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کو بغیر کسی نقصان کے فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔دالبندین میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملے کی کوشش کے دوران کم از کم دو دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی شروع کی، کلیئرنس آپریشن کے دوران صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں رہی۔قلات میں دہشت گردوں نے ڈپٹی کمشنر کے دفتر اور پولیس لائنز کو نشانہ بنانے کی ناکام کوشش کی، جس کے نتیجے میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا، سکیورٹی فورسز نے موثر جواب دیتے ہوئے حملہ آوروں کو بھاری نقصان پہنچایا اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روک دیا۔پسنی میں دہشت گردوں نے پاکستان کوسٹ گارڈز کی تنصیب پر دور سے فائرنگ کی کوشش کی، جبکہ گوادر میں ایک مزدوروں کی کالونی کو نشانہ بنایا گیا، دونوں مقامات پر پولیس اور ایف سی نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملوں کو ناکام بنا دیا۔اسی طرح بلوچہ، تمپ، مستونگ اور خاران میں سکیورٹی پوسٹس پر بیک وقت دستی بم حملے اور دور سے فائرنگ کی گئی، جنہیں سکیورٹی فورسز نے کامیابی سے پسپا کر دیا۔سکیورٹی حکام کے مطابق بلوچستان بھر میں مجموعی صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے، صرف 2 سے 3 سکیورٹی اہلکاروں کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آئیں، جبکہ کسی بھی سٹریٹجک تنصیب کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔یہ حملے حالیہ انسدادِ دہشت گردی آپریشنز کے بعد کیے گئے، جن میں بلوچستان بھر میں 50 سے زائد دہشت گرد ہلاک کیے گئے تھے، سکیورٹی ذرائع کے مطابق تازہ کارروائیاں دہشت گردوں کی بھاری ناکامیوں کا ازالہ کرنے کی ایک ناکام اور بوکھلاہٹ پر مبنی کوشش تھیں، جو ایک بار پھر بری طرح ناکام ہو گئیں۔خیال رہے کہ تشدد کی ان کارروائیوں کی ذمہ داری براہِ راست بشیر زیب بلوچ، اللہ نذر اور جلا وطن حربیار مری پر عائد کی گئی ہے، جو پاکستان سے باہر، بالخصوص افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں سے کارروائیاں چلا رہے ہیں، بی ایل اے اور بی ایل اے ایف پاکستانی قانون کے تحت کالعدم تنظیمیں ہیں، جبکہ بی ایل اے کو امریکہ بھی غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق بی ایل اے کی قیادت بیرونِ ملک محفوظ زندگی گزار رہی ہے، جبکہ بلوچ نوجوانوں کو خودکش حملوں اور براہِ راست سکیورٹی فورسز پر حملوں جیسے انتہائی خطرناک کاموں میں دھکیلا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں انہیں ہلاکتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان ناکام حملوں، اندرونی اختلافات اور گروہی جھڑپوں میں مارے جانے والوں کو بعد ازاں بی ایل اے اور بی ایل ایف سے منسلک پروپیگنڈا نیٹ ورکس (بی وائی سی اور بی این ایم) کی جانب سے زبردستی لاپتا افراد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے مزدوروں کی بستیوں اور مخلوط آبادی والے علاقوں جیسے نرم شہری اہداف کو نشانہ بنانا ان کے مجرمانہ کردار کو مزید بے نقاب کرتا ہے، جو بلوچ عوام کی نمائندگی کے ان کے دعوں کی صریح نفی ہے۔ حکام کے مطابق بڑھا چڑھا کر کیے گئے دعوئو ں کے باوجود ہیروف 2.0 کا نتیجہ ناقص منصوبہ بندی، کمزور عملدرآمد اور سکیورٹی فورسز کے پیشہ ورانہ اور تیز ردِعمل کے سامنے مکمل شکست کی صورت میں نکلا، اس مہم نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ مسلح تشدد بے سود ہے اور بلوچستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس مزید تنہائی کا شکار ہو چکے ہیں۔پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے تمام شہریوں، بالخصوص کمزور طبقات کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ غیر ملکی سرپرستی یافتہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیاں جاری رہیں گی۔حکام کے مطابق اصل ذمہ داری بی ایل اے اور بی ایل اے ایف کی بیرونِ ملک بیٹھی دہشت گرد قیادت اور ان کے غیر ملکی سرپرستوں پر عائد ہوتی ہے، جن کی وجہ سے بلوچ نوجوانوں کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں، جبکہ بلوچستان کے عوام کو نہ کوئی ترقی مل رہی ہے اور نہ ہی ریلیف مل رہا ہے، پاکستان دہشت گردی کے خلاف متحد ہے۔ وزیرِ اعلی بلوچستان کے مشیر شاہد رند نے کہا ہے کہ بلوچستان میں چند مقامات پر دہشت گردوں نے حملوں کی کوشش کی ہے جسے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ناکام بنا دیا ہے جبکہ دوسری جانب کوئٹہ شہر میں دھماکوں اور فائرنگ کے بعد ریڈ زون کو سیل کر دیا گیا ہے۔شاہد رند کے ایکس اکاونٹ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ دو روز میں بلوچستان میں مختلف مقامات پر 70 سے زائد دہشت گردوں کے مارے جانے کے بعد بلوچستان میں چند مقامات پر دہشت گردوں نے حملے کی کوشش کی ہے جس کو پولیس اور ایف سی نے بروقت کارروائی کر کے ناکام بنا دیا ہے۔شاہد رند کا مزید کہنا ہے کہ اس وقت بھاگنے والے شدت پسندوں کا تعاقب جاری ہے اور مزید تفصیلات بہت جلد سامنے لائی جائیں گی۔ اس دوران ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذکردی گئی، کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں موبائل انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ۔ کوئٹہ سے اندرون ملک اور اندرون صوبہ چلانے والی تمام ٹرینیں معطل کردی گئیں۔ریلوے ذرائع کے مطابق کوئٹہ سے پنجاب جانے والی جعفرایکسپریس، کراچی جانے والی بولان میل سروس اور کوئٹہ سے چمن جانے والی چمن پسنجر ٹرین معطل کردی گئی ہے۔انہو ں نے مزید بتایا کہ پشاور سے آنے والی جعفر ایکسپریس کو جیکب آباد پر روک لیا گیا تھا تاہم متاثرہ مسافروں کا ٹکٹ واپس کیا جائے گا۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان میں مادرِ وطن پر قربان ہونے والے 10 جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے عفریت کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رکھیں گے۔وزیراعظم ہائوس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے فتنہ الہندوستان کی جانب سے بلوچستان کے امن کو نشانہ بنانے کی مزموم کوشش کو بری طرح ناکام بنانے اور دشمن کے ارادوں کو خاک میں ملانے پر سکیورٹی فورسز کے افسران و جوانوں کی پذیرائی کی۔انہوں نے کوئٹہ، نوشکی، دالبندین، پسنی اور گوادر میں 12 مقامات پر فتنہ الہندوستان کے منظم حملوں کو ناکام بنانے اور 58 دہشت گردوں کو جہنم رسید کرنے پر سکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کی۔وزیراعظم نے گزشتہ 48 گھنٹوں میں مختلف آپریشنز میں بھارتی پشت پناہی میں سرگرم 88 دہشت گردوں کو جہنم رسید کرنے پر ارض وطن کے محافظوں کو خراج تحسین پیش کیا اور شہدا کی بلندی درجات اور ان کے اہل خانہ کیلئے صبر کی دعا کی۔وزیراعظم نے کہا کہ مجھ سمیت پوری قوم کو اپنے شہدا پر فخر ہے، سکیورٹی فورسز کے افسران و جوان اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر ارض وطن کی حفاظت میں مصروف عمل ہیں۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حملے ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراج تحسین کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بہادر سپوتوں نے بروقت اور موثر کارروائی کرکے 37 دہشتگردوں کو جہنم رسید کیا،دہشتگردوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے والے بہادر سپوتوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ یہ بھی پڑھیں:اہم معاشی سنگِ میل عبور، پاکستان نے تاریخ بدل دی وزیرداخلہ محسن نقوی نے حملے ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہا اور جام شہادت نوش کرنے والے 10 جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بہادر سپوتوں نے جان دے کر بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا، قوم کو اپنے بہادر بیٹوں پر ناز ہے۔ جام شہادت نوش کرنے والے جوان قوم کے ہیرو ہیں، شہدا کی عظیم قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ادھر وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں بم دھماکے کے مقام کا دورہ کیا اور سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔وزیراعلی بلوچستان نے سکیورٹی فورسز اور پولیس کے جوانوں سے ملاقات کی، پولیس اور سی ٹی ڈی کے فوری اور مثر ردعمل پر بہادر جوانوں کو شاباش دی۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف بروقت رسپانس قابل ستائش ہے، ریاست دشمن عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا، بلوچستان میں امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ایکس پر وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے لکھا کہ گزشتہ 12 ماہ میں بلوچستان میں سیکورٹی فورسز نے 700 سے زائد دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا ہے، صرف گزشتہ دو دن میں 70 کے قریب دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہفتہ کی علی الصبح فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے اپنے گرتے ہوئے مورال کو بچانے کے لئے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں حملوں کی کوشش کی جس کو بلوچستان کی بہادر پولیس اور ایف سی کے جانباز سپاہی مل کر ناکام بنا رہے ہیں اور اب تک درجنوں دہشت گرد ہلاک کر چکے ہیں۔وزیراعلی بلوچستان نے کہا کہ یہ حملے دہشتگردی کے خلاف ہمارے عزم کو ختم نہیں کر سکتے، ہم آخری دہشت گرد تک پیچھا جاری رکھیں گے۔دوسری جانب وزیراعلی سندھ سیدمراد علی شاہ نے بلوچستان میں حملے ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیاہے۔وزیراعلی سندھ سیدمرادعلی شاہ نے 58 دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو شاباش اوروطن کی خاطر بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہونے والے 10 اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیاہے۔وزیراعلی سندھ سیدمرادعلی شاہ کاکہناہے کہ شہید اہلکاروں نے اپنی جان پر وطن کی حفاظت کو ترجیح دی،قوم ان کی مقروض ہے،دہشت گردوں کا تعاقت جاری رکھا جائیگا،اور زمین پر انہیں جائے پناہ نہیں ملے گی۔ وزیراعلی سندھ نے کہاکہ وطن عزیز کو دہشت گردی سے ہر صورت پاک کیا جائیگا۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد حملوں کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیاہے۔چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے دہشت گرد حملوں کو ناکام بنانے پر پولیس اور سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ ہماری سکیورٹی فورسز نے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردی نیٹ ورک کی کمر توڑ دی،سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں کے بعد بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں 10 پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی شہادت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے شہید اہلکاروں کے خاندانوں سے دلی تعزیت و یکجہتی کا اظہارکیاہے