سیڑھیاں چڑھتے ہی سانس پھول جاتا ہے: دنیا کے سب س تیزرفتار انسان یوسین بولٹ ریٹائرمنٹ کے بعد کیا کر رہے ہیں

ٹوکیو: آٹھ مرتبہ اولمپک چیمپئن اور دنیا کے تیز ترین ایتھلیٹ یوسین بولٹ نے اعتراف کیا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ بھی عام انسانوں کی طرح تھکن اور سانس پھولنے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ 39 سالہ جمیکن اسٹار، جو اب بھی 100 میٹر، 200 میٹر اور 4×100 میٹر ریلے کے عالمی ریکارڈ ہولڈر ہیں، نے ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ ایڑی کی انجری کے باعث اب وہ دوڑ نہیں سکتے۔

سی این این کے مطابق بولٹ نے کہا: “میں زیادہ تر جم کی مشقیں کرتا ہوں۔ دوڑنے کا شوق نہیں لیکن اب لگتا ہے کہ دوبارہ کچھ لیپس لگانے پڑیں گے، کیونکہ جب سیڑھیاں چڑھتا ہوں تو سانس پھول جاتی ہے۔”

2017 میں ایلیٹ اسپرنٹنگ سے ریٹائرمنٹ لینے والے بولٹ نے اپنی روزمرہ زندگی کا احوال بھی بتایا: “بچوں کو اسکول چھوڑنے کے بعد اگر کوئی کام نہ ہو تو میں آرام کرتا ہوں۔ کبھی جم چلا جاتا ہوں، ورنہ سیریز دیکھتا ہوں یا لیگو کھیلتا ہوں۔ شام بچوں کے ساتھ گزارتا ہوں اور جب وہ زیادہ شرارت کرنے لگیں تو کمرہ بدل لیتا ہوں۔”

موجودہ رنرز کے بارے میں سوال پر بولٹ نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور جدید اسپائکس کے باوجود آج کے ایتھلیٹس اُن کے دور کی سطح تک نہیں پہنچ سکے۔ ان کا دوٹوک جواب تھا: “سچ یہ ہے کہ ہم زیادہ باصلاحیت تھے۔ یہ بات مردوں کے مقابلوں میں واضح ہے، البتہ خواتین کے ریکارڈز تیزی سے بہتر ہو رہے ہیں۔”

انہوں نے اپنی ہم وطن لیجنڈ شیلے این فریزر پرائس کی مثال دی، جنہوں نے نئے اسپائکس کے ساتھ بہتر ریکارڈ قائم کیے۔ بولٹ نے کہا: “یہ سب ٹیلنٹ کی بات ہے، اور ہمارا وقت یقیناً زیادہ باصلاحیت دور تھا۔”

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x