پاکستان میں گندم کے درآمد کنندگان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملک میں 30 لاکھ ٹن تک گندم کی کمی واقع ہو سکتی ہے:

پاکستان میں گندم کے درآمد کنندگان نے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر درآمد کی اجازت دی جائے تاکہ قیمتوں میں اضافہ روکا جا سکے اور مارکیٹ کو مستحکم بنایا جا سکے، تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ موجودہ ذخائر آئندہ فصل (اوائل 2026) تک کے لیے کافی ہیں اور اس وقت درآمد کی کوئی ضرورت نہیں۔ سیریل ایسوسی ایشن آف پاکستان (CAP) کے چیئرمین مزمل اے چپل نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھتے ہوئے کم از کم 15 لاکھ ٹن گندم کی درآمد کو ناگزیر قرار دیا اور شفاف و جامع درآمدی پالیسی اپنانے پر زور دیا تاکہ قیمتوں میں ہیرا پھیری روکی جا سکے اور غذائی تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف فلور ملز کو درآمد کی اجازت دینے سے مارکیٹ میں بگاڑ پیدا ہوگا کیونکہ بیشتر ملرز کے پاس بڑے سودوں کے لیے مالی وسائل نہیں ہیں، جبکہ نجی درآمد کنندگان اپنی مہارت اور وسائل کے ذریعے مسابقتی نرخوں پر گندم فراہم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے 2023 کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت کمرشل درآمد کنندگان نے ایک ارب ڈالر مالیت کی 37 لاکھ ٹن گندم بغیر کسی حکومتی سبسڈی کے درآمد کر کے مارکیٹ کو مستحکم رکھا تھا۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x