فرخ تنویرملک
اسلام آباد۔۔۔۔۔۔پاکستان میں مال برداری کے لیے برقی گاڑیوں کی طرف منتقلی میں چارجنگ کے بنیادی ڈھانچے کی کمی ایک بڑا چیلنج ہے۔ حکومت اور صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرکوں اور سامان بردار گاڑیوں کے بیڑے کو بتدریج برقی بنانے کے ساتھ قابلِ اعتماد بجلی کی فراہمی، مرمت و دیکھ بھال کی سہولتوں اور دیگر معاون بنیادی ڈھانچے کو بھی فروغ دینا ہوگا۔پاکستان نے برقی نقل و حرکت کے وسیع تر منصوبے میں تجارتی گاڑیوں اور ٹرکوں کو پہلے ہی شامل کر لیا ہے۔ نئی توانائی کی گاڑیوں کی پالیسی 2025-30 کے تحت حکومت کا ہدف ہے کہ 2030 تک موٹر سائیکلوں، رکشوں، مسافر گاڑیوں، ہلکی تجارتی گاڑیوں، بسوں اور ٹرکوں کی نئی فروخت میں نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کا حصہ 30 فیصد ہو۔پالیسی میں 2030 تک 3,000 چارجنگ اسٹیشنز قائم کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے تحت بڑی شاہراہوں پر اوسطا ہر 50 کلومیٹر کے فاصلے پر بتدریج چارجنگ مراکز قائم کرنے اور ہر صوبے میں تیل فروخت کرنے والی کمپنیوں کے 10 فیصد پٹرول پمپس پر تیز رفتار درج سوم کے چارجنگ آلات نصب کرنے کا منصوبہ ہے۔پاکستان کی موجودہ نئی توانائی کی گاڑیوں کی پالیسی اس منتقلی کے لیے بنیادی فریم ورک فراہم کرتی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مال بردار گاڑیوں کو برقی بنانے کی رفتار کا انحصار بالآخر چارجنگ نیٹ ورک، قابلِ اعتماد بجلی کی فراہمی، گاڑیوں کی مرمت کی صلاحیت اور تکنیکی مہارت کی دستیابی پر ہوگا۔ برقی گاڑیوں کے استعمال میں اضافے کے لیے ضروری چارجنگ سہولتوں میں بھی اسی رفتار سے توسیع کرنا ہوگی۔حکومت کی جانب سے چارجنگ مراکز کے لیے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ (این او سی) کے عمل کو آسان بنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے ساتھ رابطہ بہتر بنانے کے لیے خصوصی برقی گاڑیوں کے شعبے اور رابطہ افسر بھی مقرر کیے جا رہے ہیں۔ وسیع چارجنگ نیٹ ورک، قابلِ اعتماد بجلی، لائسنسنگ کے انتظامات اور دیگر معاون بنیادی ڈھانچہ ضروری ہوگا، اس کے بعد ہی رسد اور مال برداری سے وابستہ ادارے بڑے پیمانے پر اپنے گاڑیوں کے بیڑے کو برقی گاڑیوں میں تبدیل کر سکیں گے وسیع پیمانے پر تجارتی استعمال کے لیے مرمت کی ورکشاپس، مصنوعات کی دستیابی، بیٹری تبدیل کرنے کے مراکز اور تربیت یافتہ تکنیکی عملہ اہم ضروریات ہیں ۔ چین کا تجربہ اس حوالے سے ایک مثال فراہم کرتا ہے کہ جب معاون بنیادی ڈھانچہ اور مارکیٹ کی طلب مطلوبہ سطح تک پہنچ جائے تو مال برداری کے شعبے میں برقی گاڑیوں کا استعمال کس طرح تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔چین کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق 2026 کی پہلی ششماہی میں نئی توانائی سے چلنے والے بھاری ٹرکوں کی فروخت تقریبا 1 لاکھ 40 ہزار یونٹس رہی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 78.6 فیصد زیادہ ہے۔ توقع ہے کہ چین میں ایسے بھاری ٹرکوں کی مجموعی تعداد 2030 تک 16 لاکھ سے تجاوز کر جائے گی۔چینی حکام نے مال برداری کے راستوں، بندرگاہوں، کانوں، فیکٹریوں اور رسد کے مراکز پر برقی بھاری ٹرکوں کے لیے 3,000 سے زیادہ چارجنگ اور بیٹری تبدیل کرنے کے مراکز قائم کرنے کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔ یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ گاڑیوں کی تعداد بڑھانے اور مخصوص مال بردار بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔