جنوبی ایشیا میں نوجوانوں کی قیادت میں ابھرنے والی احتجاجی تحریکوں نے خطے کی سیاسی بساط ہلا دی ہے۔ نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں حالیہ برسوں کے دوران جنریشن زی نے حکومتوں کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے جن کے نتیجے میں وزرائے اعظم اور صدور کو اقتدار چھوڑنا پڑا۔ الجزیرہ کے ایک تجزیے کے مطابق یہ رجحان اس بات کا ثبوت بنتا جا رہا ہے کہ دنیا کا سب سے زیادہ گنجان آباد خطہ نوجوانوں کی انقلابی سیاست کے لیے زرخیز ہو چکا ہے۔
نیپال میں مظاہروں کا آغاز حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے سے ہوا۔ تاہم عوامی غصے کی اصل وجہ کرپشن، اقربا پروری اور اشرافیہ کی اجارہ داری تھی۔ ہزاروں طلبہ اور نوجوان تعلیمی اداروں کی یونیفارم میں سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہروں کے دوران 70 سے زائد افراد جان سے گئے، پارلیمنٹ اور میڈیا ہاؤسز کو آگ لگا دی گئی اور بالآخر وزیرِ اعظم کے پی شرما اولی کو مستعفی ہونا پڑا۔
بنگلہ دیش میں جولائی 2024 میں طلبہ نے ملازمتوں میں تحریک آزادی میں شامل افراد کی اولادوں کے لیے مختص امتیازی کوٹا پالیسی کے خلاف احتجاج شروع کیا، مگر ریاستی کریک ڈاؤن نے صورت حال کو سنگین بنا دیا۔ سیکڑوں ہلاکتوں اور انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے باوجود تحریک زور پکڑتی گئی اور عوامی حمایت حاصل کرتی رہی۔ نتیجتاً وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کو 5 اگست 2024 کو اقتدار چھوڑنا پڑا اور وہ ملک سے فرار ہوگئیں۔
سری لنکا میں 2022 میں معاشی بحران اور دیوالیہ پن کے باعث ایندھن و خوراک کی قلت، بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور افراطِ زر نے عوامی زندگی مفلوج کر دی۔ نوجوانوں نے “آراگالایا” (یعنی جدوجہد) تحریک شروع کی اور کولمبو میں “گوٹاگوگاما” کیمپ قائم کیا۔ مسلسل احتجاج نے صدر گوتابایا راجا پکشا کو مستعفی ہو کر ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔
مشترکہ عوامل اور نوجوانوں کا غصہ
ماہرین کے مطابق ان تحریکوں کے پیچھے ایک ہی طرح کے عوامل کارفرما ہیں: بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری، بدعنوانی، سیاسی اشرافیہ کی اجارہ داری اور نوجوانوں کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال۔ جنوبی ایشیا کی نصف سے زیادہ آبادی 28 سال سے کم عمر ہے، اور یہی نوجوان جب دیکھتے ہیں کہ ان کے خواب اور ان کی حقیقت میں زمین آسمان کا فرق ہے تو وہ طاقت کے ذریعے تبدیلی لانے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔
مستقبل کے امکانات
یہ تحریکیں نہ صرف ایک دوسرے سے متاثر ہو رہی ہیں بلکہ ایک دوسرے سے طریقے بھی سیکھ رہی ہیں۔ سری لنکا کے احتجاجی کیمپ، بنگلہ دیش کی طلبہ قیادت اور نیپال کے آن لائن ووٹ انقلابی سیاست کے نئے ماڈل کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر معاشی اصلاحات اور شفاف حکمرانی نہ کی گئی تو نوجوانوں کی یہ بے چینی مزید بڑے پیمانے پر انقلابات کو جنم دے سکتی ہے۔