شمسی تواناٰئی پر نئے ٹیکسز

رشید چوھدری

بجٹ میں سولر پر نئے ٹیکسوں کی بات ہو رہی ہے۔ یہ دراصل ایک قدم آگے اور دو قدم پیچھے جانے کے مترادف ہے۔

پاکستان نے بھی کبھی تیل، گیس اور کوئلے پر انحصار کم کرکے قابلِ تجدید توانائی کی طرف جانے کا خواب دیکھا تھا۔ 2019 میں پالیسی بنی، نیٹ میٹرنگ متعارف ہوئی اور کچھ سرکاری پروگرام بھی چلے۔ مگر جسے حقیقی سولر انقلاب کہا جا سکتا ہے، وہ حکومت نے نہیں بلکہ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت برپا کیا۔

چین میں پینل سازی کی مراعات نے سولر کو سستا بنایا اور پاکستان کا پالیسی فریم ورک بھی نسبتاً سازگار تھا۔ سب سے بڑا کردار مگر آئی ایم ایف اور حکومتوں کی اس پالیسی نے ادا کیا جس کے نتیجے میں بجلی اتنی مہنگی ہو گئی کہ سولر نسبتاً سستا نظر آنے لگا۔ لوگ جوق در جوق سولر کی طرف منتقل ہونے لگے۔ دوسری طرف تیل، گیس اور کوئلے کے کئی پاور پلانٹ کم یا بالکل بجلی پیدا کیے بغیر بھی ادائیگیاں وصول کرتے رہے کیونکہ معاہدوں کے تحت حکومت ان کی کیپیسٹی کے پیسے دینے کی پابند تھی۔ بجلی جتنی مہنگی ہوتی گئی، سولر اتنا ہی پھیلتا گیا۔ حکومت گرڈ صارفین سے زیادہ وصول کرتی رہی اور صارفین گرڈ کو جزوی یا مکمل طور پر چھوڑتے گئے۔ یہ کشمکش کئی برس سے جاری ہے۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہو گیا جہاں سولرائزیشن غیر معمولی رفتار سے بڑھی۔ یہ باعثِ افتخار پیش رفت تھی۔ درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہو رہا تھا، قیمتی زرمبادلہ بچ رہا تھا، لوگوں کو بجلی کے ناقابلِ برداشت بلوں سے نجات مل رہی تھی اور معیشت نسبتاً صاف توانائی کی طرف بڑھ رہی تھی۔

منطقی طور پر حکومت کو اس پیش رفت پر خوش ہونا چاہیے تھا، مگر وہ گھبرا گئی۔ مسئلہ یہ تھا کہ کیپیسٹی پیمنٹس کا بوجھ برقرار تھا جبکہ گرڈ سے جڑے صارفین مسلسل کم ہو رہے تھے۔ اس صورتحال میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت تھی، مگر بظاہر آسان راستہ یہ چنا گیا کہ سولر کی رفتار ہی سست کر دی جائے۔ گرڈ کو بچانے کے نام پر سولر کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی ہونا شروع ہو گئیں۔ پہلے درآمدی مراعات کم ہوئیں، پھر پینلز پر سیلز ٹیکس لگا، نیٹ میٹرنگ کی شرائط سخت کی گئیں اور اب سولر پر سیلز ٹیکس آٹھ فیصد پوائنٹ بڑھانے کی تجویز ہے۔ خود سولر بجلی پر مختلف حیلوں سے ٹیکس لگانے کی بات ہو رہی ہے۔ گویا عوام دوست، ماحول دوست اور معیشت دوست تبدیلی کو روک کر ایک پرانے اور مہنگے نظام کو سہارا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ پرانی ٹیکنالوجی کو انتظامی فیصلوں سے کچھ عرصہ روکا جا سکتا ہے، شکست نہیں دی جا سکتی۔ جب کوئی سستی اور بہتر ٹیکنالوجی عوام کے ہاتھ میں آ جائے تو وہ آخرکار اپنا راستہ بنا لیتی ہے۔ ریڈیو، ٹیپ ریکارڈر، وی سی آر، سی ڈی، ٹیلیگراف اور لینڈ لائن فون سب اسی اصول کے تحت تاریخ کا حصہ بنے۔ گرڈ بھی اگر خود کو نئے حالات کے مطابق نہ ڈھال سکا تو اس کا انجام مختلف نہیں ہوگا۔

سولر کا راستہ روکنے سے عوام کا نقصان تو ہوگا ہی، مگر عوام نقصان برداشت کرنے کے عادی ہیں۔ اصل نقصان ریاست کا ہوگا جو ایک عارضی مالی مسئلے کے حل کے لیے ایک ایسی ٹیکنالوجی کی راہ روک رہی ہے جو طویل مدت میں ملک، معیشت اور ماحول تینوں کے مفاد میں ہے۔ گھر آئی نعمت کو واپس کرنا کفرانِ نعمت کہلاتا ہے۔ آج اگر سولر کی رفتار کو مصنوعی طور پر روکا گیا تو چند برس بعد جب یہی راستہ ناگزیر ضرورت بن جائے گا، تب ہاتھوں سے دی گئی گرہ دانتوں سے بھی کھولنا مشکل ہوگی۔

1
Show Comments (0) Hide Comments (0)
1 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x