عبدالجبار
اسلام آباد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان جانوروں کی پیداواری صلاحیت بہتر، دودھ جمع کرنے کے نظام کو باقاعدہ بنا کر، کولڈ چین کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دے کر، حلال مصنوعات کے لیے برآمدی مراکز قائم کرکے اور قومی سطح پر مویشیوں کی نگرانی کا نظام متعارف کرا کے گوشت اور ڈیری کے شعبوں کی مسابقتی صلاحیت مضبوط کرسکتا ہے۔ وزارت کی طرف سے سرکاری و نجی شراکت داری کے ذریعے مصنوعی افزائش، مخصوص جنس کے بیج، جنین کی منتقلی اور جانوروں کی نسل بہتر بنانے کے اقدامات کو وسعت دینے کے لیے قومی ڈیری پیداواری صلاحیت بڑھانے کا پروگرام شروع کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں دودھ کی فی جانور پیداوار عالمی معیار کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے، اس لیے پیداواری صلاحیت میں بہتری خوراک کے تحفظ اور کسانوں کی آمدنی بڑھانے کا تیز ترین راستہ ہے۔ چھوٹے کسانوں کو بہتر نسلوں، ویکسینیشن اور زرعی و مویشی خدمات کے ذریعے مشترکہ معاونت فراہم کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔دودھ جمع کرنے کے باقاعدہ نظام اور کولڈ چین کے بنیادی ڈھانچے کو ڈیری شعبے کی جدید کاری کے لیے اہم ضرورت قرار دیا گیا ہے۔ سفارشات میں بڑے مویشی مراکز میں دودھ جمع کرنے کے مراکز، ٹھنڈا کرنے کے ٹینک اور ٹھنڈی اشیا کی ترسیل کے نیٹ ورک قائم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔جدید کولڈ چین کے ذریعے پیداوار کے بعد ہونے والے نقصانات کم، خوراک کا تحفظ بہتر اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کیا جاسکتا ہیجبکہ ملکی اور برآمدی منڈیوں میں پراسیس شدہ ڈیری مصنوعات کا حصہ بھی بڑھایا جاسکتا ہے۔برآمدات میں اضافے کے لیے دستاویزات میں خصوصی مویشی برآمدی زونز قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہیجہاں فارم، مویشیوں کو فربہ کرنے کے مراکز، مذبح خانے، پراسیسنگ یونٹس، لیبارٹریز اور ترسیلی مراکز ایک دوسرے سے منسلک ہوں۔ان مراکز کو خلیج تعاون کونسل، ملائیشیا، چین اور وسطی ایشیا کی منڈیوں کے تقاضوں کے مطابق تیار کیا جائے تاکہ پاکستان زندہ جانوروں کی برآمد پر انحصار کے بجائے اضافی قدر رکھنے والے حلال گوشت اور ڈیری مصنوعات کی برآمد کی طرف منتقل ہوسکے۔دستاویزات میں قومی سطح پر مویشیوں کی سراغ رسانی اور بیماریوں پر قابو پانے کا نظام قائم کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے جس میں جانوروں کی ڈیجیٹل شناخت، نقل و حرکت کی نگرانی، ویکسینیشن کا ریکارڈ اور بیماریوں کی نگرانی کا نظام شامل ہوگا۔دستاویزات کے مطابق بین الاقوامی خریدار جانوروں کی نگرانی اور صحت سے متعلق تصدیق کو تیزی سے اہمیت دے رہے ہیں۔ ایک متحدہ قومی نظام سے حیاتیاتی تحفظ مضبوط، برآمدی تقاضوں کی تکمیل بہتر اور بیماریوں کے پھیلا سے مویشیوں کو تحفظ فراہم کیا جاسکے گا۔سفارشات میں جدید فارموں اور اضافی قدر پیدا کرنے والی سرگرمیوں کے لیے رعایتی مالی معاونت اور ٹیکس مراعات کے ذریعے سرمایہ کاری تیز کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ ان اقدامات میں جدید ڈیری فارم، خودکار دودھ دوہنے کے نظام، جانوروں کی خوراک کو مثر بنانے والی ٹیکنالوجی، گوشت پراسیسنگ پلانٹس، پنیر اور دہی کی تیاری اور قابلِ تجدید توانائی سے چلنے والے یونٹس شامل ہیں۔وسیع تر پالیسی سمت میں جدید مویشی منڈیوں، منظور شدہ تجربہ گاہوں، دودھ، گوشت اور جانوروں کی خوراک کے معیار کے یکساں اصول، مضر باقیات کی نگرانی، ملک بھر میں جدید مذبح خانوں اور گوشت کے معیار سے متعلق ضوابط پر عمل درآمد، ڈیری اور گوشت کی مربوط ترقی کے ماڈلز اور ٹیکنالوجی کے ذریعے پیداواری صلاحیت بڑھانے کے حل کی بھی حمایت کی گئی ہے۔دستاویزات میں نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ بہتر نسلوں، کولڈ چین کے فروغ، برآمدات پر مبنی پراسیسنگ، بیماریوں سے پاک مویشی پالنے، ٹیکنالوجی کے ذریعے اضافی قدر پیدا کرنے اور مضبوط سرکاری و نجی شراکت داری کے ذریعے پاکستان کا لائیو سٹاک شعبہ خوراک کے تحفظ، دیہی خوشحالی اور برآمدات میں اہم کردار ادا کرنے والا شعبہ بن سکتا ہے