پاکستان انٹرنیٹ کی دوڑ میں پیچھے، رفتار دنیا کی اوسط سے آدھی بھی نہیں

اسلام آباد: ایک حالیہ عالمی رپورٹ کے مطابق پاکستان انٹرنیٹ کی رفتار کے لحاظ سے دنیا کے پسماندہ ممالک میں شامل ہے۔ موبائل انٹرنیٹ میں پاکستان کا نمبر 98 ہے، جہاں اوسط ڈاؤن لوڈ رفتار تقریباً 25 میگا بٹس فی سیکنڈ ریکارڈ کی گئی۔ فکسڈ براڈبینڈ میں صورتحال مزید خراب ہے، جہاں پاکستان 144 ویں نمبر پر ہے اور اوسط رفتار صرف 17 میگا بٹس فی سیکنڈ رہی۔ اوکلا سپیڈ ٹیسٹ گلوبل انڈیکس دنیا بھر میں انٹرنیٹ کی سہولتوں کی درجہ بندی کرتا ہے۔ انڈیکس کے مطابق عالمی سطح پر اوسط موبائل انٹرنیٹ رفتار 60 میگا بٹس فی سیکنڈ جبکہ فکسڈ براڈبینڈ کی اوسط 100 میگا بٹس فی سیکنڈ ہے، جس کے مقابلے میں پاکستان کی کارکردگی انتہائی کمزور ہے۔ خطے میں بھی پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک سے پیچھے ہے؛ بھارت موبائل انٹرنیٹ میں 27 ویں اور فکسڈ براڈبینڈ میں 99 ویں نمبر پر ہے، بنگلہ دیش بالترتیب 92 اور 98 ویں جبکہ سری لنکا 85 ویں اور 124 ویں نمبر پر ہے۔

حکومتِ پاکستان اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی انٹرنیٹ کے معیار اور رفتار بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات پر کام کر رہی ہیں۔ ان میں اضافی فریکوئنسی کا اجرا، پانچویں نسل کی ٹیکنالوجی کا نفاذ، اور جدید سہولیات جیسے وائی فائی کے ذریعے آواز کی ترسیل، قومی سطح پر رومنگ اور ایل ٹی ای پر آواز کی سہولت شامل ہیں تاکہ کال کے معیار اور کوریج میں بہتری لائی جا سکے۔ مزید برآں، موبائل ٹاورز تک فائبر بچھانے کے اہداف مقرر کیے جا رہے ہیں جبکہ اتھارٹی ہر سہ ماہی میں براڈبینڈ کمپنیوں کی کارکردگی رپورٹ بھی جاری کرتی ہے۔ نومبر 2023 میں حکومت نے پانچویں نسل کے اسپیکٹرم کی نیلامی کے لیے وزیر خزانہ کی سربراہی میں ایک مشاورتی کمیٹی قائم کی تھی۔اسی طرح، قومی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ہر سال اپنے موجودہ کنکشنز میں پانچ فیصد اضافہ کرے، جبکہ ہر مقامی کمپنی کو چار اضلاع یا تحصیلوں میں کم از کم 1200 فائبر ٹو دا ہوم کنکشنز فراہم کرنے کی شرط عائد کی گئی ہے۔ موبائل کمپنیوں کو بھی اگلے چھ سال میں ہر صوبے میں تین فیصد سالانہ موبائل براڈبینڈ کوریج بڑھانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x