گورنر بلوچستان کا یونیورسٹیوں میں اپلائیڈ ریسرچ اور مادری زبانوں کے فروغ پر زور

گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل: اپنی یونیورسٹیوں کو علم و تحقیق کے عالمی مراکز بنائیں

کوئٹہ: گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ ہمیں اپنی یونیورسٹیوں کے اکیڈمک معیار کو اس حد تک بلند کرنا ہوگا کہ صوبے کے طلبہ دوسرے صوبوں میں جانے کے بجائے، دیگر صوبوں کے طلبہ بلوچستان آکر تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ تب ممکن ہوگا جب ہم سب اپنی اپنی جگہ ذمہ داری اور خلوص سے کردار ادا کریں۔


اساتذہ اپلائیڈ ریسرچ پر توجہ دیں

یونیورسٹی آف بلوچستان کے دورے کے موقع پر ٹینور ٹریک سسٹم (TTS) کے فیکلٹی ممبران سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر بلوچستان نے کہا کہ پبلک یونیورسٹیوں کے اساتذہ کو چاہیے کہ وہ صرف نصاب پڑھانے تک محدود نہ رہیں بلکہ کاغذی تحقیق کے بجائے عملی (Applied) ریسرچ کو فروغ دیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسی تحقیق کی جائے جس سے سماجی و معاشی ترقی میں حقیقی فائدہ پہنچے۔
“تعلیم اور تحقیق کے درمیان فاصلے ختم کر کے ہی ہم جدت اور معاشی استحکام حاصل کر سکتے ہیں،” گورنر نے زور دیا۔


یونیورسٹی آف بلوچستان میں ملاقات اور گفتگو

اس موقع پر وائس چانسلر ڈاکٹر ظہور بازئی اور پرو وائس چانسلر شاہوانی بھی موجود تھے۔
گورنر مندوخیل نے کہا کہ وہ اساتذہ کو براہ راست سننا چاہتے تھے تاکہ زمینی حقائق اور ان کے مسائل سے مکمل آگاہی حاصل کر سکیں۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ “ماضی میں جو غلطیاں ہوئیں، انہیں اب دہرانے نہیں دیا جائے گا۔”


مادری زبانوں کے تحفظ اور فروغ پر زور

ایک سوال کے جواب میں گورنر جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ جیسے سندھ حکومت سندھی زبان کی ترویج کے لیے کام کر رہی ہے، ویسے ہی وہ پشتو، بلوچی، براہوی اور دیگر مادری زبانوں کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہماری قومی اور ثقافتی ذمہ داری ہے کہ ہم ان لسانی خزانوں کو محفوظ رکھیں، کیونکہ یہی ہماری شناخت اور ورثے کا حصہ ہیں۔

1
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x