عبدالجبار
ماسکو،واشنگٹن؛۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔روسی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی حملوں نے ایران میں ان لوگوں کو مضبوط کیا جو سمجھتے ہیں کہ ایران کو ایک ایٹمی طاقت ہونا چاہیے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق ایک بیان میں روس کے وزیر خارجہ نے کہا کہ سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور علی لاریجانی کے دور میں ایران کے ایٹمی طاقت ہونے کی یہ آوازیں معنی نہیں رکھتی تھیں۔انہوں نے کہا کہ جنگ سے پہلے آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، لیکن اب ٹرانزٹ فیس کی بات ہو رہی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ ایران سے بات کرنا چاہتے ہیں مگر اب وہاں بات کیلئے کوئی بچا ہی نہیں۔ دوسری جانب امریکی اخبار نے انٹیلی جنس رپورٹ کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سمجھتے ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث امریکا کمزور ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق روسی صدر موجودہ صورتحال کو یورپ میں امریکی مفادات اور اتحادیوں کے خلاف روسی کارروائیوں میں تیزی لانے کیلئے ایک اہم موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔اخبارکی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس جائزے میں روسی قیادت کے اس تاثر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ مشرق وسطی میں جنگ نے امریکا کی فوجی اور سفارتی توجہ کو ایک سے زیادہ محاذوں پر تقسیم کر دیا ہے، ماسکو مبینہ طور پر اس صورتحال کو یورپ میں اپنے سٹریٹجک مفادات آگے بڑھانے کیلئے استعمال کرنا چاہتا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے کے سربراہ جان ریٹکلف نے اپنے دورہ روس کے دوران ماسکو کو یوکرین کے خلاف جنگ میں شدت لانے سے خبردار کیا۔امریکی موقف کے مطابق روس کی جانب سے کسی بڑے فوجی اقدام یا جنگ میں مزید توسیع کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں اور یہ نتائج خود روس کیلئے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔خیال رہے کہ روس اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد سے مسلسل برقرار ہے، امریکا اور اس کے یورپی اتحادی یوکرین کی فوجی اور مالی معاونت کرتے رہے ہیں، جبکہ روس مغربی ممالک پر یوکرین کو اسلحہ فراہم کرکے جنگ کو طول دینے کا الزام عائد کرتا آیا ہے۔دوسری جانب مشرق وسطی میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی طاقتوں کی توجہ اس خطے کی جانب مرکوز کر دی ہے، امریکی انٹیلی جنس کے مطابق ماسکو اس صورتحال کو واشنگٹن کی ترجیحات اور فوجی وسائل پر دبا بڑھنے کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔امریکی حکام کیلئے بنیادی خدشہ یہ ہے کہ اگر روس نے موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یوکرین میں اپنی فوجی کارروائیاں مزید تیز کر دیں یا یورپ میں امریکی مفادات اور اتحادیوں کے خلاف دبا بڑھایا تو خطے میں سلامتی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔تاہم روسی قیادت کی جانب سے اس مبینہ انٹیلی جنس جائزے پر باضابطہ ردعمل سامنے آنے کی صورت میں ہی ماسکو کے آئندہ اقدامات کے بارے میں مزید واضح تصویر سامنے آسکے گی۔