سان فرانسسکو — انسٹاگرام کے کم عمر صارفین کے تحفظ کے لیے متعارف کرائے گئے فیچرز مطلوبہ نتائج نہیں دے رہے، بیشتر فیچرز یا تو ناقص ہیں، غیر مؤثر ہیں یا بآسانی بائی پاس کیے جا سکتے ہیں۔ یہ انکشاف بچوں کے تحفظ کے لیے سرگرم اداروں اور نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کے محققین کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ جس کا عنوان “ٹین اکاؤنٹس، ٹوٹی وعدے” ہے، میں پچھلی ایک دہائی میں میٹا کی جانب سے اعلان کردہ 47 فیچرز کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں سے صرف 8 فیچرز مؤثر ثابت ہوئے، جبکہ باقی کو یا تو ناکارہ، غیر فعال یا ناقص قرار دیا گیا۔
حساس مواد تک رسائی
تحقیق کے مطابق انسٹاگرام کے سرچ فلٹرز جو خودکشی یا کھانے کی بیماریوں سے متعلق مواد روکنے کے لیے تھے، آسانی سے چکمہ دیے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر “skinny thighs” جیسے الفاظ سرچ بلاک میں بند تھے، مگر جب الفاظ کو ملا کر لکھا گیا تو خطرناک مواد تک رسائی ممکن ہو گئی۔
اسی طرح اینٹی بُلیئنگ فلٹرز بھی متحرک نہ ہوئے اور وہ فیچر بھی ناکام رہا جو صارفین کو بار بار نقصان دہ مواد دیکھنے سے روکنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ البتہ “کوائٹ موڈ” جیسا فیچر، جو نوٹیفکیشن بند کرتا ہے، اور والدین کی اجازت کے بغیر اکاؤنٹ سیٹنگز میں تبدیلی کو روکتا ہے، مؤثر پایا گیا۔
والدین کے گروپس اور وہسل بلوور کا مؤقف
رپورٹ کو برطانیہ کی مولی روز فاؤنڈیشن اور امریکہ کی پیرنٹس فار سیف آن لائن اسپیسز کی مدد سے تیار کیا گیا۔ دونوں تنظیمیں ان والدین نے قائم کیں جن کے بچے مبینہ طور پر انسٹاگرام پر نقصان دہ مواد دیکھنے کے بعد جان سے گئے۔
میٹا کے سابق سیفٹی ایگزیکٹو اور وہسل بلوور آرٹورو بیجار نے کہا کہ کمپنی میں “اچھے آئیڈیاز” کو انتظامیہ اکثر غیر مؤثر فیچرز میں بدل دیتی تھی اور ڈیٹا کے باوجود مسائل حل نہیں کیے گئے۔
میٹا کا ردعمل
میٹا نے رپورٹ کو “غلط اور گمراہ کن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حقیقت کو مسخ کرتی ہے۔ کمپنی کے ترجمان اینڈی اسٹون نے کہا کہ فیچرز نے حقیقت میں کم عمر صارفین کے لیے نقصان دہ مواد کم کیا، ناپسندیدہ رابطے محدود کیے اور رات کے اوقات میں انسٹاگرام کے استعمال میں کمی کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ کمپنی نے اپنے خودکار سسٹمز کو اپ گریڈ کیا ہے اور انسانی نگرانی شامل کر دی ہے تاکہ خطرناک مواد کو بہتر طریقے سے روکا جا سکے۔
امریکی تحقیقات
یہ رپورٹ ایسے وقت آئی ہے جب امریکہ میں قانون ساز ٹیک کمپنیوں پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ سینیٹ نے حال ہی میں تحقیقات شروع کیں جب یہ انکشاف ہوا کہ انسٹاگرام پر چیٹ بوٹس بچوں کے ساتھ “رومانوی یا جنسی نوعیت” کی گفتگو کر سکتے ہیں۔ سابق ملازمین نے بھی گواہی دی کہ کمپنی نے ورچوئل ریئلٹی پلیٹ فارمز پر بچوں کے استحصال سے متعلق ریسرچ کو دبا دیا تھا۔
انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسیری نے کہا: “ہم چاہتے ہیں کہ والدین اپنے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مطمئن ہوں۔”