اسلام آباد: ایپل کے نئے آئی فون 17 پرو اور پرو میکس مارکیٹ میں آئے کچھ ہی دن ہوئے ہیں، لیکن دنیا بھر میں صارفین پہلے ہی اس کی پائیداری پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے تصاویر شیئر کی ہیں جن میں فون کی پشت اور کناروں پر خراشیں واضح نظر آ رہی ہیں۔ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ بغیر کور کے استعمال پر نہ صرف خراشیں پڑتی ہیں بلکہ رنگ بھی جلد مدھم ہو جاتا ہے۔
پاکستانی مارکیٹ میں ردعمل
پاکستان میں، جہاں آئی فون باضابطہ طور پر فروخت نہیں ہوتا، آئی فون 17 پرو میکس کو سب سے مہنگے فونز میں شمار کیا جا رہا ہے۔ ڈوئل ای-سم ماڈل کی قیمت پی ٹی اے منظوری سمیت 7 لاکھ 60 ہزار روپے تک جا پہنچی ہے۔
چونکہ ایپل کا پاکستان میں کوئی براہِ راست سیلز چینل نہیں ہے، اس لیے تاجر اور دکاندار ہی قیمتیں طلب کے مطابق طے کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مارکیٹ تبھی مستحکم ہوگی جب مقامی ڈسٹری بیوٹرز جیسے مرکینٹائل، ایئر لنک اور جی نیکس آفیشلی پی ٹی اے منظور شدہ ڈیوائسز متعارف کرائیں گے۔
’اسکریچ گیٹ‘ بحث
یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب بلوم برگ نے رپورٹ کیا کہ ایپل اسٹورز میں ڈسپلے پر رکھے کچھ آئی فون 17 پرو ماڈلز پر خاص طور پر میگ سیف (MagSafe) کٹ آؤٹ کے اردگرد نشان دیکھے گئے۔
ایپل نے وضاحت کی کہ یہ دراصل اسٹورز میں استعمال ہونے والے پرانے میگ سیف اسٹینڈز کی باقیات تھیں، نہ کہ خراشیں۔ کمپنی کے مطابق انہیں صاف کیا جا سکتا ہے اور اسٹینڈز کی تبدیلی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
مشہور یوٹیوبر JerryRigEverything نے بھی بتایا کہ کیمرہ ماڈیول کے ابھرے ہوئے کنارے زیادہ خراش زدہ ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کے گرد حفاظتی خم یا کنارے نہیں دیے گئے۔
ایپل کا کہنا ہے کہ یہ کنارے وہی انوڈائزڈ ایلومینیم سے تیار کیے گئے ہیں جو دیگر پروڈکٹس میں استعمال ہوتا ہے اور عام استعمال میں کافی مضبوط ہے، البتہ وقت کے ساتھ ہلکی خراشیں ممکن ہیں۔
مضبوطی کے مختلف نتائج
اس تنقید کے باوجود، کئی آزادانہ ٹیسٹوں میں سامنے آیا ہے کہ آئی فون 17 سیریز مجموعی طور پر پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ نیا Ceramic Shield 2 فرنٹ کور پچھلی نسلوں کے مقابلے میں خراشوں کے خلاف زیادہ مزاحم ثابت ہوا ہے۔
ایپل کے مطابق، فون میں استعمال ہونے والا 7000-سیریز ایلومینیم الائے ایرو اسپیس معیار کا ہے جو نہ صرف ہلکا وزن فراہم کرتا ہے بلکہ گرمی کی کارکردگی اور بیٹری لائف کو بھی بہتر بناتا ہے۔
حقیقت یا ہائپ؟
ٹیک ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل کئی تصاویر مبالغہ آرائی یا پرانی ہیں اور انہیں ڈسپلے یونٹس کی حالت کے ساتھ جوڑنا درست نہیں۔ ایسے فونز روزانہ ہزاروں افراد کے ہاتھوں سے گزرتے ہیں۔
اس تمام شور شرابے کے باوجود، دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی آئی فون 17 پرو سیریز کی طلب بلند ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ہر سال کی طرح اس بار بھی ’’خراشوں‘‘ کی بحث لانچ سائیکل کا ایک حصہ بن چکی ہے، لیکن خریدار پھر بھی ایپل کا نیا فون خریدنے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں۔