سموگ سے سانس کی بیماریاں پھیلنے کا خدشہ، قومی ادارہ صحت کی ایڈوائزری جاری
اسلام آباد۔۔۔قومی ادارہ صحت نے ملک میں بڑھتی ہوئی سموگ اور فضائی آلودگی کے باعث سانس کی بیماریوں میں اضافے کے خدشے سے خبردار کر دیا ہے۔ ادارے کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ سرد موسم میں سموگ نومبر سے فروری تک انسانی صحت کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔
ایڈوائزری کے مطابق فضا میں زہریلے مادے سردی کے ساتھ مل کر نمونیا سمیت دیگر سانس کی بیماریوں کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔ سموگ نہ صرف صحت بلکہ معیشت اور معیارِ زندگی کو بھی متاثر کر رہی ہے جبکہ ماحولیاتی آلودگی کے باعث سانس اور دل کی بیماریوں سمیت متعدد طبی بحران جنم لے سکتے ہیں۔
قومی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی سے سب سے زیادہ خطرہ بچوں، بزرگوں اور پہلے سے بیمار افراد کو ہے۔ پنجاب کے بڑے شہر لاہور، ملتان، گوجرانوالہ، راولپنڈی اور اسلام آباد سموگ سے زیادہ متاثر ہیں۔ ایڈوائزری کے مطابق لاہور میں فضائی آلودگی کی سطح سب سے زیادہ ہے، جہاں شہریوں کو خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ادارے نے ملک بھر میں صحت کے شعبے، مقامی اتھارٹیز اور ماہرین کو سموگ کے حوالے سے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ساتھ ہی عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ بچے زیادہ دیر تک باہر نہ رہیں اور متاثرہ علاقوں میں بڑے اور بچے لازمی طور پر ماسک کا استعمال کریں۔