لاہور: پنجاب میں بڑھتی ہوئی اسموگ کے باعث حکومت نے اسکولوں کے اوقات کار میں تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ تمام سرکاری و نجی اسکولز اب صبح پونے 9 بجے سے پہلے نہیں کھلیں گے۔
اسکول اوقات کار میں تبدیلی کا اطلاق
ڈی جی ماحولیات پنجاب عمران حامد شیخ کے مطابق اسکول اوقات کار میں تبدیلی کا نوٹیفکیشن 3 نومبر سے 31 جنوری 2026 تک نافذ العمل رہے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہدایت کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں پر 5 سے 10 لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جائے گا۔
لاہور میں خطرناک ایئر کوالٹی
عمران حامد شیخ نے بتایا کہ 19 سے 30 اکتوبر کے دوران لاہور میں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) کی سطح 300 سے 400 کے درمیان رہی، جو انتہائی خطرناک زمرے میں آتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ صبح اسکول ٹریفک کے باعث بڑھنے والی فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
انسداد اسموگ مہم کا آغاز
ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (LWMC) نے بڑے پیمانے پر انسدادِ اسموگ مہم شروع کر دی ہے۔
اس مہم میں 16 مکینیکل واشرز، 50 ریگولر واشرز اور 400 ورکرز کو سڑکوں کی صفائی اور پانی کے چھڑکاؤ پر مامور کیا گیا ہے تاکہ گردوغبار اور زہریلے ذرات میں کمی لائی جا سکے۔
مریم نواز کے اقدامات کی تعریف
پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے وزیر اعلیٰ مریم نواز کے اسموگ کے خلاف اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت پنجاب کے لیے ماحولیاتی بہتری کے ویژن کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ “آنے والے برسوں میں پنجاب میں وہ بہتری نظر آئے گی جو بیجنگ جیسے شہروں میں دیکھی جا رہی ہے۔”
مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ حکومتی اقدامات کے باعث کسانوں کے رویوں میں مثبت تبدیلی آئی ہے اور فضائی آلودگی پھیلانے والے کارخانوں کے خلاف کارروائی بھی جاری ہے۔