اسپاٹیفائی نے اے آئی کے غلط استعمال کی روک تھام کیلئے شفافیت کے نئے اقدامات متعارف کرادیے

اسٹاک ہوم: میوزک اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ وہ موسیقی میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے استعمال اور ممکنہ غلط استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے شفافیت اقدامات متعارف کر رہا ہے۔

کمپنی کے مطابق، وہ فنکاروں اور پروڈیوسرز کو مشورہ دے رہی ہے کہ وہ ڈیجیٹل ڈیٹا ایکسچینج (DDEX) کے نئے معیار پر عمل کریں۔ یہ عالمی ادارہ میڈیا کمپنیوں، لائسنسنگ آرگنائزیشنز اور ٹیکنالوجی فرمز پر مشتمل ہے جو تخلیقی صنعتوں کے لیے معیارات تیار کرتا ہے۔

اس معیار کے ذریعے گانوں کے میٹا ڈیٹا میں یہ شامل کیا جاسکتا ہے کہ آیا وہ مکمل طور پر اے آئی کے ذریعے تیار کیے گئے ہیں، جزوی طور پر اے آئی کی مدد سے بنائے گئے ہیں یا بالکل انسانی تخلیق ہیں۔ اسپاٹیفائی جلد ہی یہ معلومات اپنے پلیٹ فارم پر دکھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اسپاٹیفائی کے ہیڈ آف میوزک، چارلی ہیل مین نے کہا:
“پہلے لوگ اسے بائنری انداز میں دیکھتے تھے: یا تو اے آئی میوزک ہے یا نہیں۔ لیکن اب حقیقت یہ ہے کہ اے آئی تخلیقی عمل کے کئی مراحل میں شامل ہوچکا ہے۔ ہم فنکاروں کو سزا نہیں دینا چاہتے بلکہ صرف شفافیت چاہتے ہیں۔”

اے آئی میوزک اور سامعین کا ردعمل

یہ معاملہ اس وقت نمایاں ہوا جب اے آئی گروپ دی ویلویٹ سن ڈاؤن کا ایک گانا وائرل ہوا اور اسپاٹیفائی پر 30 لاکھ سے زائد بار سنا گیا۔

تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ مکمل طور پر اے آئی سے تیار شدہ گانوں کی تعداد اب بھی نہایت کم ہے۔ اسپاٹیفائی کے ہیڈ آف میوزک مارکیٹنگ، سیم ڈبوف کے مطابق:
“عام طور پر جو موسیقی کم محنت سے بنائی جاتی ہے وہ معیار پر پوری نہیں اترتی اور سامعین کو اپنی جانب متوجہ نہیں کر پاتی۔”

فی الحال، بڑا پلیٹ فارم ڈیذر (Deezer) واحد سروس ہے جو منظم انداز میں مکمل اے آئی میوزک کو فلیگ کرتی ہے۔ اسپاٹیفائی کا نظام رضاکارانہ ہے اور ابھی تخلیق کاروں کو لازمی طور پر یہ ظاہر کرنے کی شرط نہیں ہے۔

پالیسی اپڈیٹ

اسپاٹیفائی نے اپنی مواد کی پالیسی بھی واضح کر دی ہے، جس کے مطابق اے آئی کے غیر مجاز استعمال — جیسے کہ ڈیپ فیک یا بغیر اجازت کی آوازوں کی نقل — پر پابندی ہوگی اور ایسی تخلیقات پلیٹ فارم سے ہٹا دی جائیں گی۔

یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں فنکار اے آئی کے کردار پر تشویش ظاہر کر رہے ہیں، خاص طور پر رضامندی، کاپی رائٹ اور تخلیقی مستقبل کے حوالے سے۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x