ڈریپ کی ناکامی پر ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا اظہارِتشویش

اسلام آباد۔۔پاکستان میں ساٹھ سے سترہزارمتبادل ادویات بغیر حفاظتی جانچ کے فروخت ہونے کا انکشاف۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے خط لکھ کر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) سے متبادل ادویات کی نگرانی تیزکرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ڈریپ کی مسلسل ناکامی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خط میں کہا گیا ہے کہ 80 سے 90 فیصد مقامی صنعت لیبارٹریوں اور تربیت یافتہ عملے سے محروم ہیں،جس کے باعث عوامی صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے یاد دہانی کرائی ہے کہ بلوچستان ہائی کورٹ نے 27 جون 2024 کو ڈریپ اور وزارت صحت کو متبادل ادویات کی رجسٹریشن اور لائسنسنگ کا نظام وضع کرنے کی ہدایات دی تھیں،مگر عدالتی حکم پر تاحال عمل درآمد نہیں ہوسکا۔
خط میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ نئی رجسٹریشن پرفوری پابندی لگائی جائے، ملک گیر سطح پر جی ایم پی انسپیکشنز کرائے جائیں اور ڈریپ ایکٹ 2012 پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
متبادل ادویات میں ہربل میڈیسن / یونانی ،ہومیوپیتھک میڈیسن،حکیموں یا روایتی معالجین کے تیار کردہ سفوف، شربت، تیل اور کشتہ جات اورفوڈ سپلیمنٹس وغیرہ شامل ہیں۔

0
Show Comments (0) Hide Comments (0)
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x